آئرین مونتیرو نے پوپ پر “تھیوکریسی کے سربراہ” ہونے کا الزام لگا دیا
Screenshot
یورپی رکنِ پارلیمان اور پودیموس کی سیکرٹری آئرین مونتیرو نے پوپ لیو XIV پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ہسپانوی پارلیمان (کانگریسو دے لو دیپوتادوس) میں اپنی تقریر کے دوران اسقاطِ حمل اور یوتھینیزیا جیسے حقوق پر سوال اٹھا کر ان پر حملہ کیا ہے۔
مونتیرو نے پوپ کو ایک ویڈیو پیغام میں “تھیوکریسی کا سربراہ” قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ایسے ادارے میں آ کر گفتگو کی جو جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کا ایوان ہے، اور وہاں ایسے موضوعات پر بات کی جو ان کے مطابق عوام نے جمہوری طریقے سے حاصل کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوپ کو پارلیمان جیسے پلیٹ فارم سے ان معاملات پر بات نہیں کرنی چاہیے جو خواتین اور سماجی حقوق سے متعلق ہیں۔
مونتیرو نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اور پودیموس کے چار ارکان نے پوپ کی تقریر کے دوران ایوان میں شرکت نہیں کی، کیونکہ وہ ان کے مؤقف سے اختلاف رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ کیتھولک چرچ نے اب تک پادریوں کے جنسی زیادتی کے واقعات کے ہزاروں متاثرین کی مکمل تلافی نہیں کی، اور ماضی کے کئی معاملات جیسے فرانکو دور کے بعد کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور “چوری شدہ بچوں” کے کیسز پر بھی چرچ خاموش ہے۔
اس کے باوجود مونتیرو نے کہا کہ وہ پوپ کے بعض پیغامات سے اتفاق رکھتی ہیں، خاص طور پر امن اور مہاجرین کے حوالے سے ان کے بیانات سے۔ تاہم ان کے مطابق یہ باتیں چرچ کے ان مؤقفوں کو نہیں چھپا سکتیں جو ان کے خیال میں خواتین کے حقوق کے خلاف ہیں۔