بادشاہ فیلیپ ششم میگوئل اینخل بلانکو پر بننے والی نیٹ فلکس ڈاکیومنٹری میں شریک
Screenshot
اسپین کے بادشاہ فیلیپ ششم ایک نئی ڈاکیومنٹری فلم میں شریک ہوئے ہیں جس کا عنوان ہے “میگوئل اینخل بلانکو: وہ 48 گھنٹے جنہوں نے سب کچھ بدل دیا”۔ یہ فلم نیٹ فلکس پر 10 جولائی کو ریلیز کی جائے گی۔ اس ڈاکیومنٹری کی ہدایت کاری جون سستیآگا اور خوانخو لوپیز نے کی ہے جبکہ اسے دی ٹینتیرین ٹیم نے پروڈیوس کیا ہے۔
نیٹ فلکس کے مطابق یہ فلم ان دو دنوں کی کہانی بیان کرتی ہے جب پورا اسپین شدید بے چینی میں مبتلا تھا اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے تاکہ میگوئل اینخل بلانکو کے قتل کو روکا جا سکے۔ ان کی موت نے پورے ملک پر گہرا اثر چھوڑا۔
یہ ڈاکیومنٹری ان کی موت کے 29 سال مکمل ہونے پر بنائی گئی ہے، جو ان کی عمر بھی تھی جب انہیں قتل کیا گیا۔ فلم میں اس وقت کو یاد کیا گیا ہے جب باسک معاشرے نے پہلی بار تنظیم ETA کے خلاف خوف کو چھوڑ کر کھل کر آواز اٹھائی۔
فلم میں تقریباً 30 افراد کے بیانات شامل ہیں، جن میں اُس وقت کے وزیر اعظم خوسے ماریا اثنار، وزیر داخلہ خائیمے مایور اوریخا، ارموآ کے میئر کارلوس توتوریکا اور میگوئل اینخل کی بہن ماریا دل مار بلانکو شامل ہیں۔
بادشاہ فیلیپ ششم بھی اس میں اپنے خیالات بیان کرتے ہیں اور یاد کرتے ہیں کہ اُس وقت بطور شہزادہ آستوریاس انہوں نے ان واقعات کو کیسے محسوس کیا۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے واقعات کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ صحافی، سیاستدان، دوست، ساتھی کارکن، پولیس اہلکار، ایرتسائنزا (باسک پولیس) کے ارکان اور وہ ڈاکٹرز بھی شامل ہیں جنہوں نے ان کی جان بچانے کی کوشش کی تھی۔
ڈاکیومنٹری میں پہلی بار ان افراد کے بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں جنہوں نے براہ راست کوشش کی تھی کہ قتل کو روکا جا سکے، حتیٰ کہ انہوں نے دہشت گرد تنظیم کے افراد سے رابطہ بھی کیا۔
ہدایت کار جون سستیآگا خود اس وقت ایک رپورٹر تھے اور انہوں نے موقع پر جا کر اس خبر کو کور کیا تھا۔ وہ اس فلم میں بطور راوی بھی شامل ہیں اور ناظرین کو ان واقعات کی حقیقت سے روشناس کراتے ہیں۔
اس فلم کی تیاری میں 180 گھنٹے سے زیادہ آرکائیو مواد، درجنوں قومی و بین الاقوامی ذرائع، اخبارات اور مختلف اداروں کے ریکارڈز استعمال کیے گئے ہیں۔