رِپول کی مسجد کے امام کو کمسن لڑکی سے مبینہ جنسی زیادتی کے مقدمے میں ضمانت کے بغیر رہا کر دیا گیا
Screenshot
بارسلونا/ اسپین کے شہر رِپول (صوبہ جیرونا) کی ایک عدالت نے مسجد کے اس امام کو ضمانت کے بغیر رہا کرنے کا حکم دیا ہے جسے ایک کمسن لڑکی سے مبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے امام کو حکم دیا ہے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک مبینہ متاثرہ لڑکی سے 150 میٹر کے فاصلے پر رہے اور اس سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ کرے۔
رِپول کی میونسپل کونسل، جو اس وقت الیانسا کاتالانا پارٹی کے زیر انتظام ہے، نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ انہیں امام کی گرفتاری کے بارے میں سرکاری ذرائع سے نہیں بلکہ غیر رسمی ذرائع سے اطلاع ملی، جس پر انہوں نے افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔
کاتالونیا کی پولیس موسوس دِ ایسکوادرا کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ جمعرات کے روز ایک شخص کو ایک نابالغ سے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم قانونی اور حفاظتی اصولوں کے تحت ملزم کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ مقامی خبر رساں ادارے کے مطابق متاثرہ لڑکی کی عمر 11 سال ہے۔
عدالتی حکم میں ملزم کو ملک چھوڑنے سے روکنے یا پاسپورٹ ضبط کرنے کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی، تاہم اسے اپنا رہائشی پتہ تبدیل کرنے کی صورت میں عدالت کو فوری اطلاع دینا ہوگی۔
رِپول کی میئر سلویا اوریولز نے اس معاملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس حساس معاملے کی اطلاع سرکاری اداروں کے بجائے غیر رسمی ذرائع سے ملی، جسے انہوں نے ناقابل قبول قرار دیا۔ بلدیہ نے متاثرہ خاندان کو قانونی، نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ رِپول کی اسی مسجد میں ماضی میں امام عبدال باکی اس ساتی بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، جنہیں 2017 میں بارسلونا اور کامبریلس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا گیا تھا۔