لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد پیدروسانچز کا سخت ردعمل، یورپی یونین سے معاہدہ معطل کرنے کا مطالبہ

Screenshot

Screenshot

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں لبنان پر اسرائیلی حملوں کے بعد اسپین کے وزیرِاعظم پیدروسانچز نے سخت ردعمل دیتے ہوئے یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ اپنا ایسوسی ایشن معاہدہ معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کو بھی جاری جنگ بندی میں شامل کیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔

بدھ کے روز ہونے والے ان حملوں میں لبنان کی سول ڈیفنس کے مطابق کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1,165 زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے صرف چند منٹوں میں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانے اور عسکری ڈھانچے شامل تھے۔ یہ حملے جنوبی لبنان، وادی بقاع اور دارالحکومت بیروت کے مختلف علاقوں تک پھیل گئے، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی اور خوف و ہراس پیدا ہوا۔

پیدروسانچز نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو  کی جانب سے یہ حملے “زندگی اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی” ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال پر خاموش نہ رہے اور واضح مؤقف اختیار کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے اور فوری طور پر ایسوسی ایشن معاہدہ معطل کرے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات کے بغیر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ممکن نہیں اور نہ ہی خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ اعلان کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان کو شامل نہ کیے جانے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کچھ ممالک کا مؤقف ہے کہ اس جنگ بندی کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے تاکہ خطے میں مکمل امن قائم ہو سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر لبنان کو جنگ بندی میں شامل نہ کیا گیا تو کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔ موجودہ صورتحال عالمی سفارتکاری کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے