اسپین میں سابق وزرائے اعظم پر 10 سالہ سخت پابندیوں کی تجویز
Screenshot
میڈرڈ: حکومتی اتحادی جماعت سُمار نے پارلیمنٹ میں ایک قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت سابق وزرائے اعظم پر عہدہ چھوڑنے کے بعد دس سال تک سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اس تجویز کے مطابق وہ اس عرصے میں اسٹریٹیجک کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا حصہ نہیں بن سکیں گے، جبکہ موجودہ مدت دو سال ہے۔
مزید یہ کہ اگر کوئی سابق وزیرِ اعظم کونسل آف اسٹیٹ میں شامل ہو تو اسے مکمل طور پر اسی عہدے کے لیے وقف رہنا ہوگا، اور اگر وہ نجی شعبے میں معاوضہ لینے لگے تو اسے خودکار طور پر اس عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، اگر وہ تعلیمی یا تحقیقی سرگرمیوں کے علاوہ کسی منافع بخش نجی کام میں شامل ہوتا ہے تو اس کی پنشن، سرکاری دفتر اور عملہ بھی واپس لے لیا جائے گا، البتہ سیکیورٹی (گارڈ) برقرار رہے گی۔
یہ قانون ماضی پر بھی لاگو کرنے کی تجویز رکھتا ہے، جس سے فیلپے گونزالیز، خوسے ماریا ازنار، خوسے لوئس رودریگز زاپاتیرو اور ماریانو راخوئے جیسے سابق وزرائے اعظم بھی متاثر ہوں گے۔
یہ اقدام جمہوری شفافیت بڑھانے اور مبینہ اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے، خاص طور پر زاپاتیرو سے متعلق ایک کیس کے بعد۔ سُمار کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد عوامی اعتماد بحال کرنا اور سیاست میں اخلاقی معیار کو بلند کرنا ہے۔