سانچیز سے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ،پی پی اور جونتس کی ترامیم مسترد
Screenshot
ہسپانوی پارلیمنٹ (کانگریس) کی میز، جس کی سربراہی سوشلسٹ رہنما فرانسینا آرمنگول کر رہی ہیں اور جس میں PSOE اور Sumar کو اکثریت حاصل ہے، نے پی پی (Partido Popular) اور جونتس (Junts per Catalunya) کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔ ان ترامیم میں وزیرِاعظم پیدرو سانچیز سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ موجودہ سیاسی اور پارلیمانی کمزوری کے پیشِ نظر قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کریں۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ یہ معاملہ وزیرِاعظم کے خصوصی اختیارات میں آتا ہے، اور اس طرح ان ترامیم کے ذریعے آئینی حدود میں مداخلت کی گئی۔ آئین کے آرٹیکل 112 کے مطابق اعتماد کا ووٹ (confidence vote) طلب کرنا صرف وزیرِاعظم کا اختیار ہے۔
کانگریس کی میز کے مطابق پی پی اور جونتس کی تجاویز دراصل ایک “چھپی ہوئی تحریکِ اعتماد” کے مترادف تھیں، حالانکہ ایسی کوئی بھی کارروائی صرف وزیرِاعظم اپنی مرضی سے ہی شروع کر سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ووٹنگ سے پہلے ہی پی پی کی ترجمان ایسٹر میونوز نے کہا تھا کہ یہ اقدام دراصل ایک “de facto” تحریکِ اعتماد ہوگا۔
پی پی کی ترمیم میں کہا گیا تھا کہ حکومت موجودہ سیاسی تعطل کو تسلیم کرے اور جمہوری نظام میں اعتماد بحال کرنے کے لیے نئے انتخابات کرائے۔ تاہم اس میں یہ بھی واضح تھا کہ یہ مطالبہ قانونی طور پر لازمی نہیں ہوگا بلکہ صرف ایک سفارش ہوگی۔
پی پی نے اس فیصلے کو “من مانا” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ آرمنگول پارلیمنٹ یا عوام کے لیے نہیں بلکہ صرف پیدرو سانچیز کے لیے کام کر رہی ہیں۔ پارٹی نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ اس معاملے پر قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔
دوسری طرف جونتس نے بھی اس فیصلے کو “حیران کن” قرار دیا اور کہا کہ اس سے حکومت کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے، جو ایک سادہ پارلیمانی ووٹنگ سے بھی گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ فروری 2025 میں اسی نوعیت کی ایک تجویز بغیر کسی مسئلے کے منظور کی گئی تھی۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ مہینوں میں حکومت کے خلاف کرپشن کے الزامات بڑھنے کے بعد جونٹس اور PNV جیسے اتحادی بھی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ موجودہ پارلیمانی مدت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔ اگر یہ ترامیم ووٹنگ کے لیے پیش ہوتیں، تو ممکن تھا کہ پہلی بار حکومت کے خلاف واضح اکثریت سامنے آتی۔