ہسپانوی وزیراعظم سانچیز نے خبردار کیا،اگر بجٹ مسترد ہوا تو قبل از وقت انتخابات ممکن
Screenshot
سپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے عندیہ دیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ (کانگریس) حکومت کے بجٹ کو مسترد کر دیتی ہے تو وہ قبل از وقت انتخابات کروانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔ اب تک وہ مسلسل یہ مؤقف رکھتے آئے تھے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور 2027 تک قائم رہے گی، لیکن اب انہوں نے پہلی بار اس امکان کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بار حکومت بجٹ ضرور پارلیمنٹ میں پیش کرے گی، حالانکہ ماضی میں کئی بار ایسا وعدہ کیا گیا مگر بجٹ نہ تو پیش ہوا اور نہ ہی منظور ہو سکا۔ باسک نیشنل پارٹی (PNV) پہلے ہی حکومت سے مطالبہ کر چکی ہے کہ بجٹ پیش کیا جائے، اور اگر منظور نہ ہو تو انتخابات کروائے جائیں۔
ادھر PNV اور جنتس جیسے اتحادی جماعتیں کئی ہفتوں سے قبل از وقت انتخابات کی بات کر رہی ہیں، لیکن وہ ابھی تک اپوزیشن (PP اور Vox) کے ساتھ مل کر عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس سے حکومت برقرار ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اگر بجٹ مسترد بھی ہو جاتا ہے تو انتخابات 2026 میں نہیں بلکہ 2027 کے آغاز میں ہو سکتے ہیں، کیونکہ بجٹ کی پارلیمانی کارروائی طویل ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں اسے “تکنیکی طور پر قبل از وقت انتخابات” کہا جائے گا۔
سپین کی سیاست میں اس وقت وزیرِاعظم سانچیز اور اپوزیشن لیڈر البرتو نونیز فیخو کے درمیان کشمکش جاری ہے، دونوں ہی PNV اور جنتس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ یہی جماعتیں حکومت کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔
اگر یہ جماعتیں بجٹ مسترد کر دیتی ہیں یا عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کرتی ہیں تو حکومت کا خاتمہ ممکن ہے، جبکہ اگر وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کر کے اتفاق کر لیتی ہیں تو سانچیز کو اپنی مدت جاری رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔