چھاتی کے کینسر کی جلد تشخیص: سویڈن کی مصنوعی ذہانت، ڈاکٹرز سے 6 سال پہلے علامات پکڑنے میں کامیاب
Screenshot
سویڈن میں کی گئی ایک نئی تحقیق کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کے تین ایسے نظام، جو ریڈیولوجی میں پہلے سے استعمال ہو رہے ہیں، چھاتی کے کینسر کی ابتدائی علامات کو ڈاکٹروں سے تقریباً 6 سال پہلے تک شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ تحقیق اسٹاک ہوم کے کیرولنسکا یونیورسٹی اسپتال میں کی گئی اور اسے “ریڈیولوجی” نامی جریدے میں شائع کیا گیا۔
اس بڑے مطالعے میں تقریباً 88 ہزار میموگرافی (چھاتی کے ایکسرے) کا جائزہ لیا گیا، جو 10 سال کے عرصے میں 31 ہزار سے زائد خواتین سے حاصل کیے گئے تھے۔ ان میں سے تقریباً 38.5 فیصد خواتین میں بعد میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن خواتین میں بعد میں کینسر ظاہر ہوا، ان کی میموگرافی میں مصنوعی ذہانت نے کئی سال پہلے ہی خطرے کی بلند سطح کی نشاندہی کر دی تھی، جبکہ صحت مند خواتین میں یہ اسکور کم رہا۔
ماہر ڈاکٹر فریڈرک اسٹرینڈ کے مطابق، تقریباً 20 فیصد کیسز میں مصنوعی ذہانت نے کینسر کی ایسی علامات دیکھ لیں جو تشخیص سے 6 سال پہلے موجود تھیں، لیکن انسانی ماہرین انہیں نہ دیکھ سکے۔
مزید یہ کہ AI نظاموں نے 6 سال پہلے تک تقریباً 19.7 فیصد کیسز، 4 سال پہلے 25.2 فیصد اور 2 سال پہلے 39.3 فیصد کیسز میں درست انداز میں ابتدائی نشانیاں شناخت کیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مریضوں کی جلد نشاندہی ممکن ہو سکتی ہے، جس سے بروقت علاج اور بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مستقبل میں اگر ان AI اسکورز کو مسلسل مانیٹر کیا جائے تو کینسر کی ابتدائی تبدیلیوں کو اور بھی جلد پکڑا جا سکتا ہے، جس سے علاج کے امکانات مزید بہتر ہو جائیں گے۔