یورپی یونین کے سخت امیگریشن قوانین نافذ، مگر اثرات پر شکوک برقرار

Screenshot

Screenshot

برسلز: یورپی یونین میں امیگریشن اور پناہ گزینوں سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلی جمعہ کے روز نافذ ہو گئی ہے، جو تقریباً ایک دہائی کی تیاری کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یورپ بھر میں دائیں بازو کی قوم پرست جماعتوں کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

نئے معاہدے کے تحت سرحدی کنٹرول مزید سخت کیے جائیں گے، پناہ کی درخواستوں پر تیزی سے فیصلے ہوں گے، درخواست گزاروں کو ٹریک کرنے کے لیے ڈیجیٹل نظام کو وسعت دی جائے گی، اور ملک بدری (ڈیپورٹیشن) میں اضافہ کیا جائے گا۔ اس پالیسی کو 2024 میں منظور کیا گیا تھا اور اس کے نفاذ کے لیے دو سال کا وقت دیا گیا تھا۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لیین نے اس معاہدے کو “منصفانہ اور مضبوط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بیرونی سرحدیں زیادہ محفوظ ہوں گی، رکن ممالک کے درمیان تعاون بڑھے گا اور پناہ گزینوں کے معاملات زیادہ مؤثر طریقے سے نمٹائے جائیں گے۔

یہ معاہدہ 2015 کے بعد بڑھتی ہوئی دباؤ کا نتیجہ ہے، جب دس لاکھ سے زائد افراد، خاص طور پر شام کی خانہ جنگی سے فرار ہو کر، یورپ پہنچے تھے۔

تاہم یورپی یونین کے 27 ممالک میں اس پالیسی پر عملدرآمد کی تیاری یکساں نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس کے فوری اثرات اور مؤثریت پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔ بعض قانون سازوں کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک مکمل طور پر تیار نہیں۔

ماہرین کے مطابق یورپ میں امیگریشن پر سخت موقف آئندہ انتخابات میں اہم موضوع ہوگا، جبکہ سیاسی فضا گزشتہ دہائی میں دائیں جانب جھک چکی ہے۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات زیادہ تر روک تھام پر مبنی ہیں اور ہجرت کی بنیادی وجوہات جیسے جنگ، غربت اور سیاسی جبر کو نظر انداز کرتی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق 64 فیصد مہاجرین یورپی پالیسیوں سے متاثر نہیں ہوئے، جبکہ ایک فیصد سے بھی کم نے اپنے ارادے ترک کیے۔

نئے نظام کے تحت ایک “یکجہتی طریقہ کار” متعارف کرایا گیا ہے، جس کے مطابق کم درخواستیں وصول کرنے والے ممالک یا تو مہاجرین کو قبول کریں گے یا مالی اور عملی مدد فراہم کریں گے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پر عملدرآمد کے لیے سخت نظام موجود نہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق غیر قانونی داخلوں میں گزشتہ سال 26 فیصد کمی آئی ہے، لیکن یورپی ممالک پھر بھی دباؤ کم رکھنے کے خواہاں ہیں۔

مزید برآں، یورپی ممالک ایسے مراکز قائم کرنے پر غور کر رہے ہیں جہاں مسترد شدہ پناہ گزینوں کو یورپ سے باہر بھیجا جا سکے۔

یورپی کمیشن نے اس پالیسی کے نفاذ کے لیے آئندہ سات سالہ بجٹ میں 6.34 ارب یورو مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

اگرچہ اس معاہدے میں کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے کچھ اقدامات شامل ہیں، مگر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سے پناہ کے حصول کا حق محدود ہو سکتا ہے اور حراست (ڈیٹینشن) کے دورانیے میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے