پوپ لیون چہار دہم کا اسپین سے رخصت ہوتے وقت تارکینِ وطن کو گلے لگانے کا پیغام: “کل کا اجنبی آج کا بھائی اور پڑوسی بن سکتا ہے”

Screenshot

Screenshot

پوپ لیون چہار دہم نے جمعہ کے روز اسپین سے رخصت ہوتے ہوئے ایک ایسا منظر پیش کیا جو ان کے پورے دورۂ اسپین کے مرکزی پیغام کو واضح کرتا ہے۔ واپسی سے قبل انہوں نے اپنا آخری دن کینری جزائر میں تارکینِ وطن سے ملاقات، ان کی باتیں سننے اور انہیں گلے لگانے میں گزارا۔

تینریفے کے لاس رائیسیس استقبالیہ مرکز میں، جہاں اس وقت 753 افراد مقیم ہیں، پوپ نے افریقہ سے کشتیوں کے ذریعے آنے والے مہاجرین سے ملاقات کی۔ انہوں نے بچوں کو گود میں اٹھایا، ان کے ساتھ گھل مل گئے اور رہائشی بیرکوں کا دورہ کیا۔ ان مہاجرین کی اکثریت مسلمان تھی، جو اس ملاقات کو مزید اہم بناتی ہے۔

بعد ازاں لا لاگونا کے ایک چوک میں ایک اور تقریب ہوئی، جہاں پوپ نے مہاجرین اور ان کی مدد کرنے والے اداروں کے نمائندوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا “پیارے بھائیو اور بہنو، کسی نہ کسی طرح ہم سب مہاجر ہیں۔”

انہوں نے حکومت، اداروں اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا جو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کر رہے ہیں اور لوگوں کو امید دے رہے ہیں۔

پوپ نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا“انسانی ضمیر، اور خاص طور پر مسیحی ضمیر، سمندر میں ڈوبنے والوں اور مدد سے محروم لوگوں کے دکھ سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ ہر ضائع ہونے والی جان انسانیت کی ناکامی ہے۔”

انہوں نے ان افراد کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی جو مہاجرین کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں“جو لوگ مایوسی کا کاروبار کرتے ہیں، انسانی اسمگلنگ کرتے ہیں، دستاویزات ضبط کرتے ہیں اور مزدوروں کا استحصال کرتے ہیں، وہ رک جائیں اور توبہ کریں۔”

پوپ نے مہاجرین کے انضمام (انٹیگریشن) پر بھی بات کی اور خبردار کیا کہ ایک “خاموش دوسرا حادثہ” بھی ہو سکتا ہے، جب کوئی شخص نئے معاشرے میں تنہا، بے زبان اور بے سہارا رہ جائے۔
 انہوں نے کہا“انضمام کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اپنی شناخت کھو دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ نئے معاشرے کا حصہ بنے اور باعزت زندگی گزار سکے۔”

ساتھ ہی انہوں نے مہاجرین کو بھی نصیحت کی کہ وہ میزبان ملک کی زبان سیکھیں، قوانین کا احترام کریں اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔

آخر میں پوپ نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا “ہم سب بھائی بہن ہیں، کوئی پیرو سے ہے، کوئی کولمبیا سے، کوئی وینزویلا سے اور کوئی ٹینریفے سے۔ ہم سب ایک ہی خاندان ہیں۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے