یورپی یونین نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے لیے بیرونِ ملک “ریٹرن سینٹرز” قائم کرنے کی منظوری دے دی
Screenshot
یورپی یونین نے پیر کے روز ایک معاہدہ طے کیا ہے جس کے تحت رکن ممالک کو یہ اجازت دی جائے گی کہ وہ ان تارکینِ وطن کو، جنہیں یورپ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، تیسرے ممالک میں قائم کیے گئے “ریٹرن سینٹرز” (واپسی مراکز) میں بھیج سکیں۔ اس قانون کو ابھی رکن ممالک کی حکومتوں اور یورپی پارلیمنٹ سے باضابطہ منظوری درکار ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ نے یورپ کی مہاجرت پالیسی کو مزید سخت کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے یکم جون کو اس بات پر اتفاق کیا کہ ایسے مراکز قائم کیے جا سکتے ہیں جہاں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کو منتقل کیا جا سکے۔
اس قانون میں ایسی کئی تجاویز شامل ہیں جن کا مقصد ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ اس کے تحت رکن ممالک کو اختیار ہوگا کہ وہ یورپ سے باہر مراکز قائم کریں اور وہاں ان افراد کو منتقل کریں جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہوں۔
یہ معاہدہ آنے والے ہفتوں میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
کچھ یورپی ممالک، جیسے ڈنمارک، آسٹریا اور جرمنی، پہلے ہی ایسے مراکز کے لیے ممکنہ مقامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں روانڈا، یوگنڈا اور ازبکستان شامل ہیں۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ میں مہاجرت کے خلاف دائیں بازو کے سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، حالانکہ 2025 میں غیر قانونی آمد میں 26 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 2021 کے بعد کم ترین سطح پر آ گئی۔
یہ تجویز 2025 میں یورپی کمیشن نے پیش کی تھی، جس کا مقصد ملک بدری کے عمل کو مؤثر بنانا اور حکومتوں کو مزید اختیارات دینا ہے، جبکہ یورپی حکام کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے گا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اس دعوے کو مسترد کرتی ہیں۔
ایک تنظیم PICUM کی نمائندہ سلویا کارٹا کے مطابق “یہ قانون ایک سخت گیر حراست اور ملک بدری کا نظام قائم کرے گا۔”
یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ انہیں ان افراد کو واپس بھیجنے میں مشکلات پیش آتی ہیں جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو جاتی ہیں یا جن کے ویزے ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔
یورپی کمیشن کے مطابق اس وقت صرف تقریباً 20 فیصد ایسے افراد یورپی یونین سے نکلتے ہیں جنہیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا جاتا ہے۔
نئے قوانین کے تحت رکن ممالک یورپی یونین سے باہر ایسے مراکز قائم کر سکیں گے جہاں مسترد شدہ پناہ گزینوں یا ملک چھوڑنے کے حکم پانے والوں کو رکھا جا سکے۔
ان افراد کو ایسے ممالک بھی بھیجا جا سکتا ہے جن سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو۔
یورپی کمشنر برائے داخلہ میگنس برنر نے کہا “ان نئے قوانین کے ساتھ ہمیں زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا کہ کون یورپ میں داخل ہو سکتا ہے، کون رہ سکتا ہے اور کسے واپس جانا ہوگا۔”
ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے ممالک ان مراکز کی میزبانی کریں گے۔
اس منصوبے کے تحت حراست کی مدت میں اضافہ کیا جائے گا اور عدم تعاون کی صورت میں سزائیں دی جا سکیں گی، جن میں داخلے پر پابندی، جرمانے اور ممکنہ طور پر فوجداری کارروائی بھی شامل ہے۔
حکام کو یہ اختیار بھی دیا جائے گا کہ وہ:
- افراد کا سامان ضبط کر سکیں
- کم عمر افراد کو بھی حراست میں لے سکیں
- بایومیٹرک ڈیٹا جمع کریں
- گھروں کی تلاشی لیں
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان اختیارات کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ان کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات پہلے ہی کچھ یورپی ممالک میں دیکھنے میں آ رہے ہیں، خاص طور پر جرمنی سے مہاجرین کو دیگر سرحدی ممالک جیسے یونان بھیجنے کے معاملات میں۔
ان کے مطابق بعض اوقات رات کے وقت چھاپے مار کر لوگوں کو حراست میں لیا جاتا ہے اور انہیں بغیر سامان جمع کیے ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔
کچھ یورپی ممالک پہلے ہی اس ماڈل پر کام شروع کر چکے ہیں۔ نیدرلینڈز، ڈنمارک، جرمنی، یونان اور آسٹریا کے ساتھ مل کر مشترکہ مراکز بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ یوگنڈا کے ساتھ مذاکرات عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں۔
نیدرلینڈز کی حکومت 2026 کے اختتام تک اس منصوبے میں پیش رفت چاہتی ہے، جسے وہ “پناہ کا بحران” قرار دے رہی ہے۔
یہ تصور نیا نہیں ہے۔ اٹلی نے، وزیر اعظم جارجیا میلونی کی قیادت میں، البانیہ میں اسی طرح کا ماڈل آزمایا تھا جہاں تارکینِ وطن کو ان کی پناہ کی درخواست کے جائزے سے پہلے ہی منتقل کیا جاتا تھا۔
تاہم قانونی چیلنجز کی وجہ سے یہ مرکز زیادہ تر خالی ہی رہا۔
یہ قانون یورپی یونین کی مہاجرت پالیسی میں ایک اور سخت قدم ہے، جو صرف دو سال پہلے منظور ہونے والے “پیکٹ برائے مہاجرت و پناہ” کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ نیا قانون سرحدی کنٹرول کو مزید مضبوط بنائے گا اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یورپی سیاست میں دائیں بازو اور انتہا پسند جماعتوں کا اثر بڑھ ر
ہے۔