“ماں، میں پادری کیوں نہیں بن سکتی؟” میڈرڈ میں پوپ کی عبادت کے دوران کیتھولک خواتین کا احتجاج
Screenshot
میڈرڈ میں پوپ کی زیرِ قیادت ہونے والی عبادت کے دوران کیتھولک خواتین کے ایک گروہ نے چرچ میں برابری کے حق میں احتجاج کیا۔ مظاہرین نے جامنی رنگ کے چھتریاں اٹھا رکھی تھیں اور ایک بڑی چادر (بینر) پر “جب تک برابری معمول نہ بن جائے” کا نعرہ درج تھا۔ اس احتجاج پر کچھ حاضرین نے ناراضی کا اظہار کیا اور شکایت کی کہ یہ بینر دوسروں کے لیے خلل کا باعث بن رہا ہے، تاہم پولیس نے مداخلت نہیں کی۔
یہ خواتین “چرچ میں خواتین کی بغاوت” (Revuelta de las Mujeres en la Iglesia) نامی تنظیم سے تعلق رکھتی ہیں، جو کئی برسوں سے چرچ میں خواتین کے مساوی حقوق، خصوصاً پادری بننے کے حق، کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔ اس تحریک کی جڑیں 2019 میں پڑیں اور اب یہ پورے یورپ میں پھیل چکی ہے۔
احتجاج کے دوران کچھ افراد اور مظاہرین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، لیکن خواتین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ردِعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس مسئلے پر سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
18 سالہ لورا کیوبیوس، جو اس احتجاج میں شامل کم عمر خواتین میں سے ایک تھیں، نے کہا کہ اگرچہ ایسے تبصرے سن کر تھکن ہوتی ہے، مگر یہی تبدیلی کی شروعات ہے۔
تنظیم کی رہنما تیریسا کاسییاس کے مطابق چرچ میں خواتین کے لیے مواقع نہ ہونے کا مسئلہ ایک “آہنی دیوار” کی طرح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چرچ کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے خواتین کو پادری یا ڈیکن بنانے سے صاف انکار کیا جاتا ہے، جو ان کے لیے انتہائی مایوس کن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ سوال اس وقت ان کے لیے ذاتی بن گیا جب ان کی بیٹیوں نے بچپن میں کھیلتے ہوئے پوچھا: “ماں، میں پادری کیوں نہیں بن سکتی؟” یہی سوال ان کے اندر تبدیلی کی خواہش کا آغاز بنا۔
اگرچہ سابق پوپ فرانسس نے کچھ اصلاحات کیں اور خواتین کو چرچ کے انتظامی عہدوں پر تعینات کیا، لیکن مظاہرین کے مطابق حقیقی برابری ابھی بھی حاصل نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات خواتین کو عہدے تو دے دیے جاتے ہیں، مگر عملی طور پر ان کے اختیارات محدود رکھے جاتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں مذہبی خدمات انجام دینے والے افراد میں خواتین کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے، مگر قیادت کے اعلیٰ مناصب اب بھی مردوں کے پاس ہیں۔ عبادت کے دوران بھی سینکڑوں پادری اور کارڈینلز موجود تھے، مگر ایک بھی خاتون شامل نہیں تھی۔
احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے کہا کہ ان کی یہ جدوجہد صرف اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہے، تاکہ چرچ میں خواتین کو بھی قیادت اور برابری کا حق حاصل ہو سکے۔