اٹلی میں 4 تارکینِ وطن مزدوروں کا ہولناک قتل، مزدور یونینز اور چرچز کا ردعمل
Screenshot
اٹلی کے جنوبی علاقے کالابریا میں ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے چار زرعی مزدوروں کو قتل کر دیا۔ مقتولین میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل تھے۔ حملہ آوروں نے اس گاڑی کو آگ لگا دی جس میں یہ مزدور سوار تھے، اور وہ جل کر ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر کھیتوں میں کام کرنے والے تارکینِ وطن کے استحصال کو اجاگر کر دیا ہے۔
ایک زندہ بچ جانے والے افغان مزدور نے، جو گاڑی کی کھڑکی توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہو گیا، اطالوی بشپ اور کانفرنس آف بشپز کے نائب صدر فرانسسکو ساوینو نے اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اب خاموشی ختم ہونی چاہیے اور اس ظلم کو معمول سمجھنے کی روایت کو روکنا ہوگا۔
ملکی مزدور یونینز نے اس واقعے کو “ناقابلِ بیان خوفناک جرم” قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں، خصوصاً تارکینِ وطن، کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی اس قتل کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس “ہولناک جرم” کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور تمام ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے فوری کارروائی پر تحقیقاتی اداروں کی تعریف بھی کی اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔