بادالونا کے میئر کی غیر حاضر طلبہ کے والدین کی مالی امداد ختم کرنے کی تجویز پر اصرار
Screenshot
مئیر بادالونا شاوئیر گارسیا البیول نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ جو والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجتے، ان کی سرکاری مالی امداد ختم کر دی جانی چاہیے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے یہ تجویز پیش کی ہو۔ اس سے قبل بھی وہ شہر میں تعلیمی غیر حاضری کے مسئلے پر اسی قسم کی سخت پالیسی کی حمایت کر چکے ہیں۔ اگرچہ اس مسئلے کی نشاندہی اساتذہ اور سماجی تنظیمیں بھی کافی عرصے سے کر رہی ہیں، لیکن امداد بند کرنے کے معاملے پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
ایک ریڈیو انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا “مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر خاندانوں سے کہا جائے کہ بچوں کو اسکول نہ بھیجنے پر ان کی امداد بند ہو جائے گی، تو وہ لازماً بچوں کو اسکول بھیجنا شروع کر دیں گے۔”
البیول نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان کے اس بیان پر تنقید ہو سکتی ہے اور لوگ انہیں نسل پرستی یا غربت کے خلاف اقدامات کے طور پر تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد بچوں کا مستقبل بہتر بنانا ہے تاکہ وہ تعلیم حاصل کر سکیں، سیکنڈری، بیچلر یا فنی تعلیم تک پہنچ سکیں اور غربت و پسماندگی سے نکل سکیں۔
میئر کے مطابق ماضی میں مختلف حکومتوں نے خاص طور پر سانت روک جیسے علاقوں میں بہت سرمایہ خرچ کیا، مگر حالات میں نمایاں بہتری نہیں آئی۔
انہوں نے کہا“ایک ہی کام پر بار بار پیسہ خرچ کرنا جبکہ صورتحال بہتر نہ ہو، میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔”