اٹلی: کھیتوں میں کام کرنے والے چار پاکستانی مزدور قتل، لاشیں جلا دی گئیں
اٹلی کی پولیس نے جنوبی اٹلی میں ایک جلی ہوئی منی وین سے کھیتوں میں کام کرنے والے چار پاکستانی مزدوروں کی لاشیں ملنے کے بعد قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اطالوی اخبار ’کوریئرے ڈیلا سیرا‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ جلی ہوئی گاڑی صوبہ کلابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول پمپ سے ملی۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے کو باہر سے بند کرتے اور گاڑی کے اندر کوئی محلول چھڑکتے ہوئے دیکھا گیا۔
فوٹیج میں بعد ازاں گاڑی میں آگ بھڑکتے اور دونوں افراد کو موقعے سے فرار ہوتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
خبر کے مطابق فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار افراد کی لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی کے مطابق ’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب صرف اس کے تمام پہلوؤں کا تعین کرنا باقی ہے۔‘
اخبار نے مزید رپورٹ کیا کہ ’گذشتہ چند ماہ کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو نذرِِآتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آچکے ہیں۔‘
رپورٹ کے مطابق اس زرعی خطے میں کھیتوں میں کام، رہائشی دستاویزات اور رہائش کی سہولیات کی تقسیم پر مختلف تارکینِ وطن گروہوں کے مابین کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ان واقعات کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے