بارسلونا،لا مینا کے بلاکس دی لا رامبلا سے بے دخلیوں کا آغاز

Screenshot

Screenshot

لا مینا کنسورشیم نے بلاکس دی لا رامبلا سے بے دخلیوں کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ان سرکاری فلیٹس کو بعد میں بلاک وینس کے مکینوں کی رہائش کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس عمارت کو 2030 میں منہدم کیا جانا ہے۔

جمعرات کے روز سانت ادریا دے بیزوس کے علاقے لا مینا میں کشیدگی برقرار رہی، جب موسوس پولیس نے 58 متوقع بے دخلیوں میں سے ابتدائی تین پر عمل درآمد کیا۔ کارروائی صبح تقریباً آٹھ بجے عدالتی عملے اور بڑی پولیس نفری کی آمد کے ساتھ شروع ہوئی۔ یہ فلیٹس 2017 سے قبضے میں تھے اور اب انہیں خالی کروا کر بلاک وینس کے رہائشیوں کو منتقل کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس کی مسماری 2030 تک مؤخر ہو چکی ہے اور یہ پورے علاقے کی ترقی کے منصوبے کا اہم حصہ ہے۔

بے دخلی کے دوران کشیدگی
 تقریباً 40 افراد نے عمارتوں کے باہر رکاوٹیں کھڑی کر کے بے دخلی روکنے کی کوشش کی، مگر پولیس نے انہیں ہٹا دیا اور عمارتوں میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کے بعد بھی ماحول کشیدہ رہا اور مزید افراد وہاں جمع ہو گئے۔ کچھ افراد نے کنسورشیم کے دفتر پر انڈے اور پتھر پھینکے اور دیوار پر دھمکی آمیز نعرہ بھی لکھا۔

واپسی کے دوران ایک سماجی کارکن کو ہجوم نے گھیر لیا اور اس پر کافی کے کپ پھینکے گئے۔ پولیس نے مداخلت کر کے اسے بچایا، لیکن مظاہرین نے اہلکاروں پر بھی انڈے پھینکے۔

متاثرہ خاندان
 آج کی بے دخلیوں میں شامل تین کیسز میں سے دو ایسے خاندانوں کے ہیں جن کے ساتھ بچے بھی ہیں اور ان کے پاس رہائش کا کوئی متبادل نہیں۔ ہاؤسنگ یونین کے مطابق یہ خاندان کئی سال سے اپنی رہائش کو قانونی بنانے اور اپنی آمدنی کے مطابق کرایہ حاصل کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ خالی گھروں کو استعمال میں لانا یا سوشل ہاؤسنگ بڑھانا جیسے حل موجود ہیں، مگر سیاسی ارادہ نہیں۔

انتظامیہ کا مؤقف
 کنسورشیم کا کہنا ہے کہ زیادہ تر کیسز میں متاثرہ افراد کو کمزور یا مستحق نہیں سمجھا جاتا، تاہم جو واقعی ضرورت مند ہوں گے انہیں سرکاری طریقہ کار کے مطابق مدد دی جائے گی۔

متاثرہ خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ 2021 سے انہیں سوشل کرائے کی امید دلائی جا رہی تھی، مگر حالیہ منصوبوں کے اعلان کے بعد یہ عمل روک دیا گیا اور بے دخلی کے نوٹس جاری ہونا شروع ہو گئے۔

مزید بے دخلیاں متوقع
 22، 25 اور 29 جون کو مزید بے دخلیاں طے ہیں۔ متاثرہ افراد اور مقامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالتی کارروائی روکی جائے اور مذاکرات کے ذریعے حل نکالا جائے۔ ان کے مطابق اس تنازعے سے علاقے میں گہرا سماجی زخم پیدا ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے