سابق ہسپانوی وزیراعظم زاپاتیرو کے زیورات سعودی عرب کے بادشاہ کا تحفہ تھے، قریبی ذرائع کا دعویٰ
Screenshot
اسپین کے سابق وزیرِاعظم خوسے لوئیس رودریگس زاپاتیرو نے اپنے دفتر کے سیف سے ملنے والے تقریباً 13 لاکھ یورو مالیت کے زیورات کے بارے میں جج کو کوئی واضح وضاحت نہیں دی۔
تاہم باخبر ذرائع کے مطابق زاپاتیرو یہ مؤقف اختیار کرنے والے ہیں کہ یہ زیورات انہیں اپنے دورِ حکومت میں بطور تحفہ ملے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تحائف ان کی اہلیہ سونسولیس ایسپینوسا کے لیے تھے، جنہیں بعد میں محفوظ کر لیا گیا اور جوڑے کو ان کی اصل قیمت کا علم نہیں تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ تحائف سرکاری پروٹوکول کے ذریعے دیے گئے تھے۔ زاپاتیرو کے عہدہ چھوڑنے کے بعد انہیں محفوظ رکھا گیا، اور اس وقت ایسا کوئی قانون موجود نہیں تھا جس کے تحت سرکاری عہدے پر ملنے والے تحائف کو لازماً قومی اثاثہ (Patrimonio Nacional) کے حوالے کرنا ضروری ہو۔
ٹی وی ای اور زاپاتیرو کے قریبی حلقوں کے مطابق یہ زیورات 2007 میں سعودی عرب کے سابق بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے دیے گئے تھے، جب اس حوالے سے قانونی پابندی موجود نہیں تھی۔
فی الحال زاپاتیرو نے جج کے سامنے اس کی تصدیق نہیں کی، تاہم انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ چند دنوں میں زیورات کی مکمل وضاحت پیش کریں گے۔
دوسری جانب قومی عدالت کے جج خوسے لوئیس کالاما نے انہیں اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ کے الزامات کے تحت ملزم قرار دیا ہے، کیونکہ یہ زیورات کسی بھی ٹیکس گوشوارے میں ظاہر نہیں کیے گئے۔ جج کا کہنا ہے کہ واضح وضاحت نہ ملنے کی وجہ سے مقدمہ برقرار رکھا گیا ہے۔
اگر زاپاتیرو باضابطہ وضاحت دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ دوبارہ عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں یا اپنے وکیل کے ذریعے تحریری جواب جمع کرا سکتے ہیں، جس میں ہر زیور کی اصل تفصیل بیان کی جائے گی۔