ایل راوال میں کشیدگی: الجزائری اور پاکستانی گروہوں کے درمیان تصادم کے بعد خوف کی فضا
Screenshot
بارسلونا کے علاقے ایل راوال میں ان دنوں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ مقامی رہائشیوں کو خدشہ ہے کہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اتوار 14 جون کی رات راوال کی مرکزی سڑک (رامبلا) پر تقریباً 40 افراد کے درمیان شدید لڑائی ہوئی، جس میں ایک طرف الجزائری اور دوسری طرف پاکستانی افراد شامل تھے۔

یہ جھگڑا اس قدر بڑھ گیا کہ اس میں چھریاں، ڈنڈے اور کرسیاں تک استعمال کی گئیں۔ پولیس نے چار افراد کو گرفتار کیا، لیکن علاقے کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ ہو سکتے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق تنازعہ ایک پاکستانی ریسٹورنٹ “AWAMI” سے شروع ہوا، جہاں کچھ الجزائری افراد بغیر اجازت کرسیاں اٹھا کر لے گئے اور سڑک کے بیچ میں بیٹھ گئے۔ ریسٹورنٹ مالکان نے انہیں روکا اور کرسیاں واپس کرنے کا کہا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔
بات تکرار سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچی، اور کچھ ہی دیر بعد الجزائری نوجوانوں کا ایک گروہ ہتھیار لے کر واپس آیا اور پاکستانیوں پر حملہ کر دیا۔

واقعے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں۔ پولیس اور گواردیا اربانا کی متعدد ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور حالات پر قابو پایا۔ تاہم، تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد ایک اور جھگڑا شروع ہو گیا، جس پر پولیس کو دوبارہ مداخلت کرنا پڑی۔
پولیس کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس علاقے میں مختلف قومیتوں کے درمیان جھگڑے اکثر ہوتے رہتے ہیں، جن میں پاکستانی، الجزائری، مراکشی اور بھارتی افراد شامل ہوتے ہیں۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اب علاقے میں پولیس کی موجودگی بڑھ گئی ہے، اور پاکستانی گروہ بھی سڑکوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اگر دوبارہ کوئی حملہ ہو تو فوری ردعمل دیا جا سکے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو دوبارہ بڑا تصادم ہو سکتا ہے، اور وہ اس قدر شدید لڑائی پہلے کبھی نہیں دیکھ چکے۔