اسپین ویزا اپوائنٹمنٹ بحران: سوشل میڈیا کے شور سے زیادہ آگاہی کی ضرورت،خالد شہباز چوہان

a947

بارسلونا / اسلام آبادپاکستان میں اسپین ویزا اپوائنٹمنٹس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف خبریں اور دعوے گردش کر رہے ہیں۔ کوئی اپوائنٹمنٹ کے لیے کوئی دو لاکھ، کوئی چار لاکھ، پانچ لاکھ اور حتیٰ کہ دس لاکھ روپے تک کے مطالبات کی بات کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض افراد ایجنٹ مافیا، بی ایل ایس سسٹم، ٹی سی ایس اور حتیٰ کہ اسپین ایمبیسی پر بھی تنقید کر رہے ہیں۔تاہم اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو ایسا ہے جس پر بہت کم توجہ دی جا رہی ہے، اور وہ ہے عوام کی بی ایل ایس سسٹم کے بارے میں آگاہی۔ان خیالات کا اظہارصدرکاتالان فیڈریشن خالد شہباز چوہان نے کیا، انہوں نے مزید کہا کہ میری ذاتی تحقیق اور کمیونٹی سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق پاکستان میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بی ایل ایس کے آن لائن سسٹم میں رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے رشتہ دار اسپین میں مقیم ہیں اور انہوں نے فیملی ریکوپراسیون، ورک ویزا یا دیگر ویزا درخواستوں کے لیے دستاویزات پاکستان بھیج رکھی ہیں، لیکن پاکستان میں موجود درخواست گزاروں کو کمپیوٹر یا موبائل پر بی ایل ایس اکاؤنٹ بنانے اور اپوائنٹمنٹ تلاش کرنے کا طریقہ معلوم نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے بی ایل ایس ویب سائٹ پر رجسٹریشن ضروری ہے۔ رجسٹریشن کے بعد ہی اپوائنٹمنٹ سرچ کی جا سکتی ہے۔ اگر ایک دن، ایک ہفتہ یا دو ہفتے تک اپوائنٹمنٹ نہ ملے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سسٹم کام نہیں کر رہا، بلکہ مسلسل کوشش کرنا ضروری ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اپوائنٹمنٹ کے عمل میں درخواست گزار کی اپنی معلومات، موبائل نمبر اور بعض مراحل میں سیلفی یا شناختی تصدیق درکار ہوتی ہے۔ اس لیے مکمل انحصار ایجنٹوں پر کرنا مسئلے کو مزید بڑھاتا ہے۔

کمیونٹی کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صرف سوشل میڈیا پر شکایات کرنے کے بجائے عوام کو بی ایل ایس سسٹم استعمال کرنے کی تربیت دیں۔ ہر شہر میں ایسے افراد موجود ہیں جو کمپیوٹر اور آن لائن سسٹمز جانتے ہیں۔ وہ ضرورت مند خاندانوں کی مفت یا معمولی مدد کے ذریعے اپوائنٹمنٹ حاصل کرنے میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں بی ایل ایس کا اپوائنٹمنٹ سسٹم بنیادی طور پر پاکستان سے ہی قابلِ رسائی ہے۔ اسپین میں موجود رشتہ دار براہِ راست اپوائنٹمنٹ لینے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس حوالے سے اسپین کے سفارتی حکام اور بی ایل ایس انتظامیہ سے درخواست کی جائے گی کہ سسٹم کو پاکستان اور اسپین دونوں ممالک سے قابلِ رسائی بنایا جائے تاکہ اسپین میں مقیم خاندان بھی اپنے عزیزوں کی مدد کر سکیں۔

جہاں تک مختلف ویزا کیٹیگریز کا تعلق ہے، اطلاعات کے مطابق فیملی ریکوپراسیون (Reagrupación Familiar) کی اپوائنٹمنٹس نسبتاً زیادہ دستیاب ہوتی ہیں، جبکہ ورک ویزا کی سلاٹس محدود ہونے کی وجہ سے زیادہ مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ سلاٹس میں اضافے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

کمیونٹی کے افراد سے اپیل ہے کہ جب بھی کوئی اپوائنٹمنٹ نہ ملنے کی شکایت کرے تو سب سے پہلے اس سے یہ سوال ضرور کریں:“کیا آپ بی ایل ایس میں رجسٹرڈ ہیں؟ کیا آپ نے اپنا اکاؤنٹ خود بنایا ہے؟”اگر کوئی شخص رجسٹرڈ ہی نہیں، اپوائنٹمنٹ تلاش کرنے کا طریقہ نہیں جانتا اور مکمل طور پر ایجنٹوں پر انحصار کرتا ہے تو پھر ایجنٹ جو بھی رقم طلب کریں، اس پر اعتراض کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ایجنٹ مافیا کے خلاف صرف سوشل میڈیا پر شور مچانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اصل حل عوام کی آگاہی، خود رجسٹریشن اور بی ایل ایس سسٹم کے درست استعمال میں ہے۔مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ جو لوگ خود کوشش کرتے ہیں، ان میں سے بہت سے افراد کو اپوائنٹمنٹ مل بھی رہی ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کمیونٹی شکایات کے ساتھ ساتھ آگاہی مہم بھی چلائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ خود اپنا حق حاصل کر سکیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے