جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بارسلوناکے زیرِ اہتمام پلاسا یونیورستیات میں احتجاجی مظاہرہ
بارسلونا(دوست نیوز) آزاد کشمیر میں جاری بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیےجموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی بارسلوناکے زیرِ اہتمام پلاسا یونیورستیات میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ،جس میں کشمیری کمیونٹی کی خواتین بچوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، نوجوانوں اور بچوں نے کشمیر کا پرچم اٹھایا ہوا تھا

احتجاجی مظاہرہ کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہوا جس کی سعادت حافظ صدیق اور حافظ لقمان نے حاصل کی ،کشمیر کا ترانہ ذیشان مغل کشمیری نے پیش کیا۔جبکہ نظامت کے فرائض عبدالصبور چوہدری سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اسپین نے سرانجام دئیے۔
مقررین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے خیالات کا اظہار کیا،مقررین میں محمد شہباز ملک،عاطف ظہیر چوہدری،ڈاکٹر ہما جمشید،سید ذوالقرنین شاہ ،راجہ ولید،سید فخر عباس شاہ،ناصر شہزاد،سردار بابر خان،جاوید ملک،حسنین ابرار کشمیری سپانش میں خطاب،عثمان عابد کشمیری انگریزی میں خطاب،علامہ ضیا مصطفی،عمران رشید،زوبیہ طاہر ،سردار عباس،ارسلان کشمیری ،ارشد کشمیری ،شکیل بٹ کشمیری،ملک عماد ،عدیب کشمیری ،تیمور کشمیری شامل ہیں ۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بچوں بزرگوں کے لئے خوراک کی فراہمی کی بندش پر مذمت کی اور کہا “ہمارے دکھ درد میں جو لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے اور ہمارے حقوق کے لیے مضبوط آواز بلند کی، ہم ان کے شکر گزار ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آج یہاں اس موقع پر ہمارے کشمیری بھائی تو آئے ہی ہیں، لیکن ہمارے پاکستانی بھائی بھی یہاں موجود ہیں۔

“ہم سب اپنی آزادی کے لیے لڑتے رہیں گے۔ یہ آزادی ہمارا حق ہے اور کوئی بھی ہم سے یہ حق نہیں چھین سکتا۔ ہم فخر کے ساتھ لڑیں گے، عزم کے ساتھ لڑیں گے، کیونکہ کشمیر ہمارا ہے اور کوئی اسے ہم سے نہیں لے سکتا۔ ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں، ہم ہر اس شخص کی حمایت کرتے ہیں جو آزادی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے،
ان شاء اللہ، ایک دن آئے گا جب ہمارے لوگ آزاد ہوں گے، کشمیر آزاد ہوگا، ہم آزاد ہوں گے، ہماری اولاد آزاد ہوگی، اور اس دن تک ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے، کبھی ہار نہیں مانیں گے، ان شاء اللہ۔”

“وہاں کے امیر لوگ اپنی عیش و عشرت میں مصروف ہیں، لیکن یہاں ہمارے بچوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اسکول جانے کے لیے رسیوں کے سہارے دریا پار کرتے ہیں۔ کئی معصوم بچے اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان ظالم حکمرانوں نے عوام پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا، سب کچھ خود کھا گئے۔
آج یہی حکمران، جو آزاد کشمیر میں اقتدار میں ہیں، اپنی جان بچانے کے لیے پاکستان کو پکار رہے ہیں کہ فوج بھیجی جائے، ورنہ کشمیری انہیں مار ڈالیں گے۔ حالانکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوئی دس بیس سال سے نہیں بلکہ صرف تین سال میں ہی عوام میں شعور بیدار کر چکی ہے۔ اس نے لوگوں کو بتایا کہ ان کے حقوق کیا ہیں اور ان کے جائز مطالبات کون سے ہیں۔ ان مطالبات کو پورا کرنا آزاد کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے، کیونکہ وہی ہمارے ووٹوں سے منتخب نمائندے ہیں۔

ہمارا مطالبہ پاکستان سے نہیں ہے، بلکہ ہم ان چور حکمرانوں سے اپنا حق اور اپنا پیسہ مانگتے ہیں، اور آپ سب بھی یہی مطالبہ کریں۔”
“اب آپ نے کشمیر میں بھی وہی آپریشن شروع کر دیے ہیں۔ نہیں، ہمارے لوگ نہیں ڈریں گے۔ آپ جو مرضی کر لیں، ہمارے لوگ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ “یہ گولی یہیں نہیں رکی، یہ مریدکے تک پہنچی، اور اب کشمیریوں کی باری بھی آ گئی ہے۔ کشمیر والو، اپنے پاکستان کو اپنے سے جدا مت کرو۔ وہ بھی اسی ظلم کا شکار ہے، وہ بھی وہی کچھ برداشت کر رہا ہے جو آج آپ کر رہے ہیں۔

“یہ ریاست کشمیریوں کی ہے، اور کشمیریوں نے کبھی سرنڈر نہیں کیا۔ وہ موت قبول کر لیتے ہیں، لیکن ہتھیار نہیں ڈالتے۔ یہی وہ سرزمین ہے جس نے امن کو جنم دیا، یہی وہ سرزمین ہے جس نے بڑے بڑے دلیر لوگ پیدا کیے، جیسے میران اور شوکت نواز میر۔
یہاں اگر ایک گولی چل جائے تو لوگ گھبرا کر بھاگ جاتے ہیں، مگر ذرا عمر نذیر کو دیکھو، اس کے صبر کو دیکھو۔ اس نے صاف کہا کہ میں مر جاؤں گا، لیکن اپنی عوام کو چھوڑ کر پیچھے نہیں ہٹوں گا۔

وہ لوگ جو وہاں بیٹھے ہیں، وہ کوئی دہشت گرد نہیں ہیں، وہ کشمیری ہیں۔ اگر تاریخ کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ مزاحمت کرنے والے، اپنی سرزمین کے لیے جانیں قربان کرنے والے یہی کشمیری ہیں۔ ہم غدار نہیں ہیں، یہ ہماری ریاست ہے، اور ہمارا اپنا وزیرِاعظم ہے۔
اگر کسی ریاست کا اپنا وزیرِاعظم ہو تو وہ ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ وہ کسی کے ساتھ نظام میں شراکت کر سکتی ہے، لیکن کسی کے ماتحت نہیں ہوتی۔”

مظاہرہ کے اختتام پر شہدا آزاد جموں و کشمیر کے لئے فاتحہ خوانی،لواحقین سے اور پوری کشمیری قوم سے تعزیت کی گئی