سوئٹزرلینڈ میں ریفرنڈم ،آبادی کو ایک کروڑ تک محدود کرنے کی تجویز مسترد ،معاشی استحکام کے موجودہ ماڈل کو برقرار رکھنے کو ترجیح
Screenshot
سوئٹزرلینڈ نے ایک عوامی ریفرنڈم میں اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت ملک کی آبادی کو 2050 تک زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ (10 ملین) تک محدود کرنے کا آئینی ہدف مقرر کیا جانا تھا۔ ابتدائی نتائج کے مطابق تقریباً 54 سے 55 فیصد ووٹروں نے اس غیر معمولی تجویز کے خلاف ووٹ دیا، جسے دائیں بازو کی عوامی جماعت نے پیش کیا تھا۔ اس تجویز کی منظوری کی صورت میں سوئٹزرلینڈ دنیا کا پہلا ملک بن جاتا جو آئینی طور پر آبادی کی حد مقرر کرتا۔
یہ تجویز سوئس پیپلز پارٹی (SVP/UDC) کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جو ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اور امیگریشن کے خلاف سخت مؤقف رکھتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں سوئٹزرلینڈ کی آبادی 75 لاکھ سے بڑھ کر 91 لاکھ ہو گئی ہے، جس کی بڑی وجہ یورپی یونین کے ممالک سے آنے والے افراد ہیں۔
سوئٹزرلینڈ یورپی یونین کا رکن نہیں، لیکن اسے یورپی سنگل مارکیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ معیشت کو ہنر مند افراد کی ضرورت کے باعث 2002 سے اب تک دس لاکھ سے زائد یورپی شہری یہاں آ چکے ہیں۔ ملک کی کل آبادی میں غیر ملکیوں کا تناسب 27.6 فیصد ہے، جن میں سے 67 فیصد یورپی یونین سے تعلق رکھتے ہیں۔
تجویز کے مخالفین، جن میں دیگر سیاسی جماعتیں، مزدور تنظیمیں اور کاروباری حلقے شامل تھے، نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کی حد مقرر کرنے سے نہ تو رہائش، ٹرانسپورٹ یا انفراسٹرکچر کے مسائل حل ہوں گے، بلکہ یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بالآخر ووٹروں کی اکثریت نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے معاشی استحکام کے موجودہ ماڈل کو برقرار رکھنے کو ترجیح دی، جس میں امیگرینٹس کو ترقی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔