اسپین، اولوت میں ایک سال کے دوران فراڈ کے باعث 1300 افراد کو رجسٹری (پدرون) سے خارج کر دیا گیا
Screenshot
اسپین کے شہر اولوت کی بلدیہ نے ایک سال کے دوران 1300 افراد کو میونسپل رجسٹری (پدرون) سے خارج کر دیا ہے، کیونکہ انہوں نے فراڈ کیا تھا۔ بلدیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہری خدمات کو حقیقی آبادی کے مطابق منظم کرنا ہے۔
میونسپل حکام کے مطابق، فراڈ کی دو بڑی وجوہات سامنے آئیں۔ پہلی یہ کہ کچھ لوگ اولوت میں صرف اس لیے اپنا اندراج کرواتے تھے تاکہ مقامی سہولیات اور امداد حاصل کر سکیں، حالانکہ وہ وہاں رہتے نہیں تھے۔ دوسری صورت میں بعض افراد اس عمل کو کاروبار بنا لیتے تھے، یعنی وہ پیسے لے کر مہاجرین کو اپنے گھروں پر رجسٹر کر دیتے تھے، حالانکہ وہ حقیقت میں وہاں مقیم نہیں ہوتے تھے۔
بلدیہ کے مطابق ایسے کیسز بھی سامنے آئے جہاں ایک ہی پتے پر آٹھ آٹھ افراد رجسٹر تھے، مگر کوئی بھی وہاں نہیں رہتا تھا۔ ان معاملات کی تحقیقات کے لیے مقامی پولیس نے نیشنل پولیس اور موسوس (کاتالونیا پولیس) کے ساتھ مل کر کام کیا۔
میئر آگستی اربوس کے مطابق، ایک سال میں 700 معائنے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 1300 بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ ان افراد کو رجسٹری سے نکال دیا گیا کیونکہ وہ غیر قانونی طور پر عوامی وسائل سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پدرون شہر کی عوامی خدمات تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہے، لہٰذا اگر اس میں فراڈ ہو تو وسائل کی تقسیم متاثر ہوتی ہے اور مستحق افراد کو نقصان پہنچتا ہے۔
میئر نے مزید بتایا کہ کچھ لوگ سرکاری رہائش (ہاؤسنگ) کی درخواستوں کے دوران اپنی آمدنی کم ظاہر کرنے کے لیے وقتی طور پر رجسٹری سے نام بھی کٹوا لیتے تھے، تاہم ایسے معاملات کو جلد ہی روک دیا گیا۔
انہوں نے قانون پر بھی نکتہ چینی کی، خاص طور پر اس شق پر جس کے تحت بلدیہ کو قابضین (اوکپاس) کو بھی رجسٹر کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک مسئلہ ہے، مگر وہ قانون پر عمل جاری رکھیں گے اور فراڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کرتے رہیں گے۔
آخر میں میئر نے کہا کہ دیگر شہروں کو بھی اسی طرح کے اقدامات کرنے چاہئیں، کیونکہ غیر متوازن آبادی میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔