لبلبے کے کینسر کے خلاف نئی ریسرچ ،پروٹین جو براہِ راست ٹیومر خلیات کو نشانہ بناتی ہے

Screenshot

Screenshot

بارسلونا میں واقع ہاسپتال دیل مار ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور انسٹیٹیوٹ آف بایومیڈیکل ریسرچ (IIBB-CSIC) کے سائنسدانوں نے چوہوں پر کیے گئے ایک مطالعے میں لبلبے کے کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی دریافت کی ہے، جو نہ صرف ٹیومر کے خلیات کو نشانہ بناتی ہے بلکہ مدافعتی نظام کو بھی متحرک کرتی ہے۔

یہ تحقیق جریدہ سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی ہے، جس میں PARP2 نامی پروٹین کے کردار کا جائزہ لیا گیا۔ یہ پروٹین کینسر کے خلیات کو تحفظ فراہم کرتی ہے، لیکن اس کو روکنے سے نہ صرف کینسر کے خلیات مر جاتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام بھی زیادہ مؤثر طریقے سے ٹیومر پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ PARP2 کو روکنے سے کینسر پر دو طرفہ حملہ ممکن ہوتا ہے:
 ایک طرف یہ کینسر کے خلیات کو اندر سے ختم کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے DNA کی خرابیوں کو درست نہیں کر پاتے، اور دوسری طرف یہ مدافعتی خلیات کو ٹیومر تک پہنچنے اور اسے تباہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ طریقہ صرف لبلبے کے کینسر تک محدود نہیں بلکہ ایسے دیگر ٹیومرز میں بھی مؤثر ہو سکتا ہے جہاں مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔

یہ تحقیق کینسر کے خلیات کی ایک کمزوری یعنی تیزی سے تقسیم کے دوران پیدا ہونے والے دباؤ (replicative stress) کو استعمال کرتی ہے۔ اس مرحلے پر PARP2 پروٹین DNA کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور اس کی روک تھام کینسر کے خلیات کی موت کا باعث بنتی ہے۔

مزید برآں، مریضوں کے ڈیٹا سے بھی ان نتائج کی تصدیق ہوئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ طریقہ انسانوں میں بھی کارآمد ہو سکتا ہے۔

تحقیق کی سربراہ پیلار ناوارو کے مطابق اب ضرورت اس بات کی ہے کہ خاص طور پر PARP2 کو نشانہ بنانے والی ادویات تیار کی جائیں، کیونکہ موجودہ ادویات پورے PARP گروپ پر اثر انداز ہوتی ہیں اور مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں، ساتھ ہی ان کے مضر اثرات بھی زیادہ ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے