ریاستوں کی خودمختاری اور حدود کا احترام بین الاقوامی امن کے لیے ضروری ہے، پیدرو سانچیز

Screenshot

Screenshot

سپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کی، ان کے عالمی موقف کو خاص طور پر وینزویلا اور گرین لینڈ جیسے معاملوں میں “طاقت کے قانون” کے طور پر بیان کرتے ہوئے سانچیز نے زور دیا ہے کہ ریاستوں کی خودمختاری اور حدود کا احترام بین الاقوامی امن کے لیے ضروری ہے، اور ایسے اقدام کسی ملک کی طاقت کے غلط استعمال کے مترادف ہیں۔ 

اسی دوران پیرس میں یوکرین کے لیے ’کوئلیشن آف والنٹیئرز‘ کے اجلاس میں 35 ممالک نے ایک مشترکہ منصوبے پر اتفاق کیا ہے جس کے تحت ایک کئی ہزار فوجیوں پر مشتمل کثیر القومی فورس کو یوکرین میں تعینات کیا جائے گا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق یہ فوج “براہِ راست لڑائی کے لیے نہیں” ہوگی بلکہ امن معاہدے کی صورت میں جنگ بندی کو نافذ کرنے اور اس کے تحفظ میں مدد دے گی۔ 

سانچیز نے اس موقع پر کہا ہے کہ اگر یوکرین اور روس کے درمیان امن معاہدہ ہوتا ہے تو سپین بھی ممکنہ طور پر یوکرین میں امن مشن کے لیے اپنی افواج بھیجنے کے بارے میں غور کرے گا۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ یہ فوجی عمل صرف جنگ بندی کے بعد امن قائم رکھنے اور ممکنہ پھر سے جھڑپوں کو روکنے کے لیے ہوگا۔ 

یہ تمام فیصلہ اس پس منظر میں آیا ہے کہ یورپی ممالک اور امریکہ یوکرین کے لیے امن اور سکیورٹی ضمانتوں پر کام کر رہے ہیں، جب کہ روس اب تک امن معاہدے کے امکانات پر واضح نہیں ہے۔ 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے