غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دینا“سماجی انصاف” پر مبنی ہے،الما سائز

Screenshot

Screenshot

اسپین کی ترجمان حکومت اور وزیر برائے شمولیت، سوشل سیکیورٹی و مہاجرت الما سائز نے اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی کے رہنما البرتو نونیز فیخو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب وزیر اعظم پیدرو سانچیز میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں بین الاقوامی سطح پر اسپین کی نمائندگی کر رہے ہیں، تو فیخو ووکس کے ساتھ یہ مقابلہ کر رہے ہیں کہ “کون زیادہ انتہاپسند ہے”۔

الما سائز نے کہا کہ سوشلسٹ پارٹی (PSOE) انتہاپسندی کے خطرے کے مقابلے میں “درست تاریخی مؤقف” پر کھڑی رہے گی اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شفافیت کے ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں سے معاہدے کر کے عوام کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش جاری رکھے گی، جبکہ پاپولر پارٹی اور ووکس کے اتحاد سے عوام میں خوف اور بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔

انہوں نے یہ بات کینتابریا میں سوشلسٹ پارٹی کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے اپریل سے شروع ہونے والے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو قانونی حیثیت دینے کے حکومتی منصوبے کا دفاع کیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام “سماجی انصاف” پر مبنی ہے، کیونکہ اس سے ان تارکین وطن کو حقوق ملیں گے جو پہلے سے اسپین میں رہ کر ملک کی معیشت میں حصہ ڈال رہے ہیں لیکن نظر انداز کیے جا رہے تھے۔

الما سائز نے بتایا کہ اس اقدام کی بنیاد عوامی قانون سازی کی ایک مہم تھی، جس کے حق میں 7 لاکھ سے زائد دستخط جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاپولر پارٹی نے ابتدا میں اس کی حمایت کی، لیکن بعد میں ووکس کے دباؤ میں آ کر اسے روک دیا۔

انہوں نے پاپولر پارٹی اور ووکس کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ اس اقدام سے سرکاری خدمات پر دباؤ بڑھے گا، اور کہا کہ غیر ملکی افراد اسپین کی آمدنی میں تقریباً 10 فیصد حصہ ڈالتے ہیں جبکہ اخراجات میں ان کا حصہ صرف 1 فیصد ہے۔

وزیر نے پنشن میں مہنگائی کے مطابق اضافے کے حکومتی فیصلے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ پاپولر پارٹی ممکنہ طور پر دوبارہ اس کی مخالفت کرے گی، کیونکہ وہ عوامی پنشن نظام پر یقین نہیں رکھتی۔

انہوں نے کم از کم آمدنی (Ingreso Mínimo Vital) میں 11 فیصد اضافے کو بھی اہم سماجی اقدام قرار دیا، جس سے کم آمدنی والے افراد کو مدد اور نئے مواقع مل رہے ہیں۔

الما سائز نے بعض علاقائی حکومتوں، خصوصاً پاپولر پارٹی کی قیادت والی حکومتوں پر بھی تنقید کی کہ وہ غربت کے خلاف بجٹ کم کر رہی ہیں، جبکہ غربت میں کمی نہ ہونے پر مرکزی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ غربت کے خاتمے کے لیے تمام حکومتی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے