بھارت میں 88 ممالک کا مصنوعی ذہانت پر تاریخ کا سب سے بڑا سفارتی معاہدہ
Screenshot
نئی دہلی میں منعقدہ AI Impact Summit 2026 اپنے اختتام کو پہنچ گئی جہاں 88 ممالک نے مصنوعی ذہانت سے متعلق تاریخ کے سب سے بڑے سفارتی معاہدے پر دستخط کیے۔
اعلامیہ، جسے “اعلانِ دہلی” کا نام دیا گیا، میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی آمد ٹیکنالوجی کی ارتقائی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے اور آج کیے جانے والے فیصلے آئندہ نسلوں کی دنیا کو تشکیل دیں گے۔
اس معاہدے میں امریکہ، چین اور یورپی یونین سمیت بڑی طاقتیں شامل ہیں۔ اجلاس میں شریک ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان کے مطابق آئندہ 24 ماہ میں “سپر انٹیلی جنس” کے مرحلے تک پہنچنے کا امکان ہے، اس لیے ایک عالمی اخلاقی فریم ورک کی ضرورت ناگزیر ہے۔
ابتدائی طور پر 12 ممالک نے معاہدے پر دستخط سے ہچکچاہٹ ظاہر کی تھی، تاہم حتمی متن میں یہ وضاحت شامل کیے جانے کے بعد کہ ہدایات رضاکارانہ اور غیر پابند ہوں گی، اتفاق رائے ممکن ہو سکا۔
امریکہ کے نمائندے مائیکل کریتسیوس نے شروع میں مجوزہ ضوابط کو محض نمائشی قرار دیا اور کہا کہ اسٹریٹجک خودمختاری ٹیکنالوجی کی ملکیت سے حاصل ہوتی ہے، اس کی تحدید سے نہیں۔
دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برازیل کے صدر لولا دا سلوا سمیت کئی رہنماؤں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو جمہوری بنایا جائے تاکہ آمریت یا معاشرتی خطرات سے بچا جا سکے۔
معاہدے کی نمایاں شقوں میں ایک “عالمی سیکیورٹی ذخیرہ” (Trusted AI Commons) کا قیام شامل ہے، جہاں ممالک مصنوعی ذہانت کی ممکنہ غلطیوں کو خطرناک مرحلے تک پہنچنے سے پہلے روکنے کے لیے اپنے رہنما اصول اور طریقہ کار شیئر کریں گے۔
اسی طرح ایک “چارٹر برائے جمہوری رسائی” بھی منظور کیا گیا ہے تاکہ غریب ممالک کو مناسب قیمت پر چپس کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے اور وہ ٹیکنالوجی کی دوڑ سے باہر نہ رہ جائیں۔
معاہدے میں صحت اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں اوپن ایکسس ماڈلز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو ترجیح دی گئی ہے۔ ساتھ ہی آئندہ پانچ برسوں میں متوقع بڑے پیمانے کی خودکاریت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے روزگار سے متعلق ہنگامی منصوبہ بھی طے کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے خبردار کیا کہ سپر انٹیلی جنس کے دور میں ٹیکنالوجی کی مرکزیت سے بچنے کے لیے اس کی ترقی کو غیر مرکوز کرنا ضروری ہے، جبکہ ڈیپ مائنڈ کے ڈیمس ہاسابس نے 2031 تک عمومی مصنوعی ذہانت کے حصول کی پیش گوئی کی۔
پانچ روزہ کانفرنس کے دوران تقریباً 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلانات ہوئے اور نئی دہلی میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ یہ اجلاس عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کو انسانی عقل و تدبر کے تابع رکھنے کی پہلی بڑی مشترکہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔