ٹرمپ اور میلونئی میں کشیدگی، اٹلی نے خودمختار مؤقف اپنایا

Screenshot

Screenshot

اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات میں واضح تناؤ سامنے آیا ہے، جس نے یورپی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں میلونئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں “ناقابل قبول” قرار دیا، جس کے جواب میں اطالوی وزیر اعظم نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا کہ “اتحادی ہونے کا مطلب تابع ہونا نہیں ہوتا۔”

یہ اختلاف بنیادی طور پر ایران کے خلاف امریکی پالیسی، پوپ سے متعلق بیانات اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاملات پر سامنے آیا۔ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ میلونئی ایران کے خطرے کو سنجیدہ نہیں لے رہیں، جبکہ اطالوی قیادت نے امریکی مؤقف سے فاصلہ برقرار رکھا۔

اسی دوران اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی خودکار تجدید کو بھی مؤخر کر دیا، جسے ماہرین ایک اہم سیاسی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ زیادہ تر موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث کیا گیا، تاہم اسے خارجہ پالیسی میں محتاط تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

روم میں حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ اٹلی امریکہ کے ساتھ اتحاد کو برقرار رکھے گا، مگر یہ تعلق برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہوگا۔ وزیر خارجہ انتونیو تاجانی اور وزیر دفاع گویڈو کروسیٹو نے بھی اسی مؤقف کی تائید کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال میلونئی کے لیے داخلی طور پر بھی اہم ہے، کیونکہ وہ 2027 کے انتخابات کی تیاری کر رہی ہیں۔ ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کرنا ان کے لیے یورپی ووٹرز میں ایک متوازن اور آزاد قیادت کے تاثر کو مضبوط کر سکتا ہے۔

ادھر یورپی میڈیا میں اس معاملے کو اٹلی کی خارجہ پالیسی میں “خودمختاری کے نئے دور” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں روم واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنی سرخ لکیریں واضح کر رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے