Arrels کا انکشاف: بے گھر غیر یورپی افراد میں 24 فیصد کی قانونی حیثیت ممکن، مگر اخراجات بڑا مسئلہ
Screenshot
Arrels فاؤنڈیشن نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسپین میں رہنے والے غیر یورپی بے گھر افراد میں سے تقریباً 24 فیصد ایسے ہیں جو ملک میں شروع کیے گئے ریگولرائزیشن کے عمل کے تحت قانونی حیثیت حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل میں شامل اخراجات اور دستاویزی مشکلات ان افراد کے لیے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کو قانونی حیثیت ملنے کا امکان ہے، ان میں سے 75 فیصد پہلے ہی انتہائی سماجی اخراج اور کمزوری کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان افراد کے لیے روزمرہ زندگی ہی مشکل ہے، اس لیے قانونی عمل کے تقاضے پورے کرنا ان کے لیے مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
Arrels نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ سڑک پر زندگی گزارنے والے افراد کے لیے دستاویزات کو محفوظ رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ سروے کے مطابق گزشتہ سال 54 فیصد بے گھر افراد نے کہا کہ ان کے لیے شناختی یا دیگر اہم کاغذات کو برقرار رکھنا “مشکل یا بہت مشکل” ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں دستاویزات کی میعاد ختم ہونا، گم ہو جانا یا چوری ہو جانا شامل ہیں۔
تنظیم نے کہا ہے کہ ریگولرائزیشن کے عمل کے دوران سب سے بڑی رکاوٹ مالی اخراجات ہیں۔ اس کے مطابق اگر کسی کو ترجمے، قانونی تصدیق اور اپنے ملک سے سرکاری دستاویزات منگوانی پڑیں تو مجموعی لاگت 600 سے 700 یورو تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ رقم ان افراد کے لیے بہت زیادہ ہے جو پہلے ہی بنیادی ضروریات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
Arrels کی قانونی ٹیم کی سربراہ ایوا ہوبیخ نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ اخراجات ایک بڑا مسئلہ ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ایک اہم موقع ہے کہ ایسے افراد کو شہری حقوق دیے جائیں جو طویل عرصے سے ان سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق تنظیم اس عمل میں مدد فراہم کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھا سکیں۔
ہوبیخ نے یہ بھی واضح کیا کہ اسپین میں مستقل رہائش ثابت کرنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہوگا، کیونکہ اس کے لیے عام طور پر تاریخی رجسٹریشن یا “empadronamiento” درکار ہوتا ہے۔ لیکن بے گھر افراد کے لیے یہ رجسٹریشن کروانا خود ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس صورتحال میں بعض اوقات متبادل دستاویزات جیسے میڈیکل رپورٹس استعمال کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے عمل میں سماجی اداروں کی مدد کے بغیر آگے بڑھنا تقریباً ناممکن ہے۔ ان کے مطابق ایسے افراد جو شدید کمزوری اور سماجی محرومی کا شکار ہیں، وہ اکیلے قانونی شرائط پوری نہیں کر سکتے، اس لیے قانونی اور سماجی معاونت ناگزیر ہے۔