یونان کے قریب گلوبل صمود فلوٹیلا کے خلاف کارروائی “انتہائی سنگین اور شرمناک” ہے، آدا کولاؤ
بارسلونا کی سابق میئر آدا کولاؤ نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے متاثرہ افراد کی فوری رہائی کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے ٹی وی پروگرام bàsics (betevé) میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے یونان کے قریب گلوبل صمود فلوٹیلا کے خلاف کارروائی “انتہائی سنگین اور شرمناک” ہے، اور یہ انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ کولاؤ کے مطابق تقریباً 100 افراد کو “اغوا” کیا گیا ہے، جن میں کچھ کاتالان اور ہسپانوی شہری بھی شامل ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
انہوں نے اداروں کی خاموشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا: “یورپی یونین کی خاموشی کانوں کو بہرا کر دینے والی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور سینکڑوں افراد خطرے میں ہیں۔
کولاؤ نے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بارسلونا سٹی کونسل، کاتالونیا کی حکومت اور اسپین کی حکومت صرف رسمی مذمتی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی قدم اٹھائیں اور زیر حراست افراد کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں۔
انہوں نے یہ بھی تنقید کی کہ اسرائیل اب بھی بین الاقوامی تقریبات جیسے موبائل ورلڈ کانگریس میں شرکت کرتا ہے، جو ان کے مطابق “بالکل ناقابل قبول” ہے۔
انہوں نے کچھ غیر مصدقہ اطلاعات کا حوالہ بھی دیا جن کے مطابق ایک فوجی کارروائی میں درجنوں کشتیوں کو روکا یا تباہ کیا گیا ہے، اور بعض افراد کو ساحل پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ کچھ کشتیاں آگے بڑھنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔
اسی پروگرام میں فائر فائٹر اور فلوٹیلا کے رکن پاؤ پیریز سے بھی بات کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کشتی کو روکا نہیں گیا اور وہ سب محفوظ ہیں، اگرچہ صورتحال کشیدہ رہی۔ ان کے مطابق انہوں نے ڈرونز کی غیر معمولی سرگرمی دیکھی، جو کم اونچائی پر پرواز کر رہے تھے، اور یہ کارروائیاں اس علاقے سے بہت دور ہو رہی تھیں جو فلسطین کے زیر قبضہ علاقے سے تقریباً 1,100 کلومیٹر دور ہے۔