فلسطینی نژاد ہسپانوی شہری کواسرائیلی فوج نے گرفتار کرلیا، رہائی کا مطالبہ
Screenshot
اسرائیل کی جانب سے امدادی بحری قافلے گلوبل سمود کو روکنے کے بعد بارسلونا کے رہائشی اور کارکن سیف ابو کشک کی گرفتاری نے سفارتی بحران کو جنم دے دیا ہے، جبکہ شہر میں احتجاجی مظاہرے بھی پھوٹ پڑے۔
اس فلسطینی نژاد ہسپانوی شہری، جو انٹرسندیکال (IAC) کے رکن ہیں، کو اسرائیلی فوج نے اس وقت حراست میں لیا جب 175 کارکنوں پر مشتمل کشتی،جن میں تقریباً 30 ہسپانوی بھی شامل تھے،کو روکا گیا اور یونان کے جزیرے کریٹ منتقل کیا گیا۔
فوجی کارروائی کے دوران ابو کشک کو دیگر افراد سے الگ کر کے اسرائیل منتقل کر دیا گیا، جہاں ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ وہ حماس کو غیر قانونی مالی رقوم منتقل کر کے اس کی معاونت کر رہے تھے، اور بین الاقوامی تنظیموں اور حماس کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کر رہے تھے۔
یہ کشتی 15 اپریل کو بارسلونا کی بندرگاہ سے غزہ کے لیے انسانی امداد لے کر روانہ ہوئی تھی، جس کا مقصد ناکہ بندی کو توڑنا تھا، تاہم یونانی پانیوں کے قریب اس کا مشن ختم ہو گیا۔
ہسپانوی حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس کے ذریعے ابو کشک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور میڈرڈ میں اسرائیلی سفارتکار کو طلب کیا گیا ہے۔
الباریس نے یقین دہانی کرائی کہ اسرائیل اور یونان میں موجود ہسپانوی سفارتخانے متاثرہ شہریوں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور ان کی جلد واپسی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
حکومت کے اتحادی گروپ سمار کے رہنماؤں نے اس کارروائی کی سخت مذمت کی۔ وزیر ثقافت ارنست اورتاسن نے اسے “اغوا” قرار دیا، جبکہ نائب وزیر اعظم یولاندا دیاز نے اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔
گرفتاری کی خبر کے بعد بارسلونا میں احتجاج شروع ہوا، جو بعد ازاں پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہو گیا۔ تقریباً 400 مظاہرین اسرائیلی قونصل خانے کے قریب جمع ہوئے جہاں پولیس کے ساتھ تصادم ہوا۔
مظاہرین نے پتھر اور آتش گیر اشیاء پھینکیں، جس کے نتیجے میں شہری املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ موسس پولیس کے تین اہلکار معمولی زخمی ہوئے۔ پولیس نے دو کم عمر افراد کو گرفتار کیا ہے۔
منتظمین کے مطابق، اسرائیلی فوج نے کارکنوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے پُرامن مزاحمت کی کوشش کی تو انہیں مارا پیٹا گیا، گھسیٹا گیا اور بعض کو ناک اور پسلیوں کی ہڈیاں ٹوٹنے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
مزید یہ کہ کارکنوں کو مناسب خوراک اور پانی بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
تقریباً 30 زخمی کارکنوں کو یونان کے سیتیا ہسپتال میں طبی امداد دی گئی، جبکہ رہا ہونے والے 60 افراد نے ہیراکلیون ایئرپورٹ پر بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے، جہاں وہ یونانی پولیس کی جانب سے حراست میں رکھے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔