سیویا میں فلسطینی نرس کے خلاف نفرت انگیز پیغامات پر شخص کو چھ ماہ قید کی سزا

Screenshot

Screenshot

سیویا کی صوبائی عدالت نے ایک شخص کو، جو ہسپتال کی سکیورٹی کا ذمہ دار تھا، ایک فلسطینی نژاد نرس کو عوامی طور پر توہین آمیز اور نفرت انگیز جملے کہنے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے اس کے ساتھ ساتھ ملزم کو تین سال اور چھ ماہ کے لیے تعلیمی، کھیلوں اور تفریحی شعبوں میں تدریسی نوعیت کے کسی بھی پیشے سے نااہل بھی قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ سیویا کے سان لازارو ہسپتال کے کینٹین میں پیش آیا، جہاں ملزم کی باتوں سے نرس خود کو “ذلیل” اور “خوفزدہ” محسوس کرنے لگی۔

عدالت کے مطابق یہ جرم بنیادی حقوق اور عوامی آزادیوں کے تناظر میں امتیازی سلوک کی بنیاد پر انسانی وقار کو مجروح کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے الفاظ میں “واضح طور پر نفرت کا پیغام” موجود تھا۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے نرس سے کہا“میرے نزدیک تم سب مور ہو” اور “مراکش والوں سے دور رہنا چاہیے کیونکہ وہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں”، اور انہیں دہشت گرد قرار دیا۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملزم کا نرس کے ساتھ کوئی ذاتی تنازعہ نہیں تھا بلکہ اس نے صرف اس کے نسلی اور مذہبی پس منظر کی بنیاد پر اسے نشانہ بنایا۔

عدالت نے متاثرہ نرس کے بیان کو قابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی سچائی پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ دوسری جانب ملزم نے اپنے دفاع میں کہا کہ اسے گفتگو کی مکمل تفصیل یاد نہیں، کیونکہ وہ کینسر کے علاج کے لیے دی جانے والی دوا کے زیرِ اثر تھا۔

عدالت نے ملزم کو چھ ماہ کی قید کے علاوہ چھ ماہ تک روزانہ چھ یورو جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

متاثرہ نرس نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس واقعے کے بعد خود کو شدید طور پر ذلیل اور خوفزدہ محسوس کرتی تھی، یہاں تک کہ اسے ہسپتال سے باہر نکلنے میں بھی ڈر لگنے لگا تھا۔

سیویل کے نرسنگ کالج نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے نرسنگ کے پیشے سے وابستہ افراد کے خلاف ہر قسم کی جسمانی اور زبانی تشدد کی مذمت کی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے