اسپین کے سابق وزیرِاعظم زاپاتیرو کرپشن تحقیقات کی زد میں

Screenshot

Screenshot

اسپین کے سابق وزیرِاعظم جوزے لوئس رودریگس زاپاتیرو کے خلاف مبینہ بدعنوانی اور اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

عدالتِ عالیہ کے مطابق منگل کے روز میڈرڈ میں ان کے دفتر سمیت دیگر تین مقامات پر تلاشی لی گئی، جبکہ انہیں 2 جون کو بیان دینے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

یہ تحقیقات 2021 میں ایئرلائن پلس الٹرا کو دی جانے والی 53 ملین یورو کی سرکاری امداد سے متعلق ہیں، جو کورونا وبا کے دوران دی گئی تھی۔

کیس نے اس وقت شدت اختیار کی جب دسمبر میں متعدد گرفتاریاں ہوئیں، جن میں تاجر جولیو مارتینز (عرف “جولیتو”) بھی شامل ہے، جسے اس معاملے میں اہم کردار سمجھا جاتا ہے۔

الزامات کے مطابق زاپاتیرو نے اس ایئرلائن کے لیے سرکاری بیل آؤٹ کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا اور اس سلسلے میں وزارتِ ٹرانسپورٹ پر دباؤ ڈالا، جو اُس وقت جوزے لوئس آبالوس کے پاس تھی۔

مزید شبہات کمپنی Analisis Relevante پر بھی ہیں، جس پر الزام ہے کہ اس نے وہی رقم حاصل کی جو بعد میں زاپاتیرو کو ادا کی گئی۔ ایک ہسپانوی کاروباری شخصیت نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ زاپاتیرو نے تقریباً 10 ملین یورو بطور کمیشن وصول کیے۔

یہ بیل آؤٹ پہلے ہی متنازع تھا کیونکہ ناقدین کے مطابق پلس الٹرا کی مالی حالت کمزور تھی اور اس کے مالکان کے وینزویلا سے تعلقات شفافیت پر سوال اٹھاتے تھے۔

عدالت اب یہ جانچ رہی ہے کہ آیا یہ امداد قانونی طریقے سے منظور کی گئی تھی یا اس میں کسی قسم کا ناجائز اثر و رسوخ استعمال ہوا۔

ادھر اندلس کے صدر خوانما مورینو نے کہا کہ کسی سابق وزیرِاعظم کے خلاف اس نوعیت کی تحقیقات ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور اس سے سیاسی صورتحال پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی نے اس معاملے کو موجودہ وزیرِاعظم پیدرو سانچیز کی حکومت کے خلاف تنقید کے لیے استعمال کیا ہے، جبکہ حکومت پہلے ہی دیگر کرپشن تحقیقات کے دباؤ میں ہے۔  

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے