اسپین میں کم عمر افراد میں ویپنگ یورپی اوسط سے زیادہ، “نکوٹین کی لت کہیں زیادہ شدید”

Screenshot

Screenshot

پھیپھڑوں کے کینسر سے متعلق ہسپانوی گروپ (GECP) نے خبردار کیا ہے کہ اسپین میں 14 سے 18 سال کے تقریباً نصف طلبہ کبھی نہ کبھی الیکٹرانک سگریٹ (ویپ) آزما چکے ہیں، جو یورپ کی اوسط سے زیادہ ہے۔

نکوٹین اب آم، اسٹرابیری یا کیریمل جیسے ذائقوں میں دستیاب ہے، جیب میں آسانی سے سما جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ جہاں روایتی سگریٹ نوشی نوجوانوں میں کم ہو رہی ہے، وہیں ویپنگ نکوٹین کی ایک نئی لت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اسپین میں 49.5 فیصد نوجوان طلبہ نے کبھی نہ کبھی ای سگریٹ استعمال کیا ہے، جبکہ یورپ کی اوسط 44 فیصد ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق لڑکیوں میں ویپنگ کا رجحان لڑکوں سے زیادہ ہے۔ اسپین میں 50.5 فیصد لڑکیوں نے اسے آزمایا، جبکہ لڑکوں میں یہ شرح 48.5 فیصد ہے۔ یہی رجحان یورپ میں بھی دیکھا گیا ہے۔

GECP کے سیکرٹری ڈاکٹر بارٹومیو ماسوتی کے مطابق 2024 سے خواتین میں پھیپھڑوں کے کینسر سے ہونے والی اموات، چھاتی کے کینسر سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دل کی بیماریوں کے بعد پھیپھڑوں کا کینسر سب سے زیادہ جان لیوا ہے، اور اس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسپین میں اس سال تقریباً 35 ہزار نئے کیسز متوقع ہیں اور 23,500 سے زائد اموات ہوں گی۔ ان میں سے تقریباً 80 فیصد کیسز تمباکو سے جڑے ہیں۔

مزید یہ کہ 27.1 فیصد نوجوانوں نے گزشتہ 30 دنوں میں ویپ استعمال کیا، جبکہ یورپ میں یہ شرح 22 فیصد ہے۔

ماہرین کے مطابق ویپنگ کو نوجوان خطرناک نہیں سمجھتے کیونکہ اسے “کم نقصان دہ” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر اس کے نقصانات میں پھیپھڑوں کی سوزش، خلیاتی نقصان، سانس کی بیماریاں اور انفیکشن کا خطرہ شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے بھی خبردار کیا ہے کہ نکوٹین انڈسٹری نوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے پرکشش ڈیزائن، انفلوئنسرز اور جذباتی مارکیٹنگ استعمال کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں نکوٹین پاؤچز (مسوڑھوں اور ہونٹ کے درمیان رکھے جانے والے چھوٹے پیکٹ) بھی نوجوانوں میں مقبول ہو رہے ہیں۔

ماہر نفسیات فرانسسکا لوپیز کے مطابق نکوٹین ایک انتہائی نشہ آور مادہ ہے، اور ای سگریٹس کے ذریعے اس کی لت روایتی سگریٹ سے بھی زیادہ تیزی سے لگ سکتی ہے۔ نکوٹین وقتی طور پر توجہ اور ذہنی چوکسی بڑھاتی ہے، مگر طویل مدت میں دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، متلی، چکر اور موڈ میں تبدیلی جیسے مسائل پیدا کرتی ہے۔

خاص طور پر کم عمری میں اس کا استعمال دماغی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے، جس سے یادداشت، توجہ اور ذہنی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

اس صورتحال کے پیش نظر GECP نے نوجوانوں تک رسائی کے لیے ٹک ٹاک کا سہارا لیا ہے۔ “تمباکو کو اپنی زندگی میں داخل نہ ہونے دو” مہم کے تحت 12 سے 16 سال کے طلبہ کو ویڈیوز بنانے کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ویپنگ اور تمباکو کے نقصانات کو اجاگر کریں۔

اس سال اسپین بھر سے 250 سے زائد نوجوانوں نے حصہ لیا۔ پہلا انعام الباسیتے کے ایک اسکول کو ملا، جبکہ دیگر شہروں کے تعلیمی اداروں کو بھی سراہا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ تمباکو اور نکوٹین سے دور رہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں کیونکہ صحت انسان کی سب سے قیمتی دولت ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے