بلباؤ ایئرپورٹ پر فلوٹیلا کے ارکان کی آمد پر پولیس اور کارکنوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ، چار افراد گرفتار

Screenshot

Screenshot

بلباؤ ایئرپورٹ پر فلوٹیلا کے ارکان کی آمد ایک شدید جھڑپ میں تبدیل ہو گئی، جہاں پولیس اور کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔ ان واقعات کے دوران چار افراد کو سنگین نافرمانی، مزاحمت اور سرکاری اہلکار پر حملے کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔

گلوبل سومود فلوٹیلا کے باسک علاقے سے تعلق رکھنے والے ارکان ترکی سے دوپہر تقریباً دو بجے بلباؤ ایئرپورٹ پہنچے، جہاں صبح 11 بجے سے ان کے استقبال کے لیے بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب کارکن میڈیا کے سامنے تصاویر بنوا رہے تھے اور ایک رشتہ دار نے ان کے قریب جانے کی کوشش کی، جسے پولیس اہلکار نے روک دیا۔ اس پر صورتحال بگڑ گئی اور احتجاج شروع ہو گیا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے متعدد افراد کو زمین پر گرا کر قابو کیا اور بعد میں کچھ کارکنوں کو ہتھکڑیاں لگا کر ایئرپورٹ کے اندر لے جایا گیا۔

باسک حکومت کے سیکیورٹی کے مشیر بنگن زوپی ریا نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، فلوٹیلا کے ارکان کی آمد کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی اور یہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب ایئرپورٹ پر رگبی میچز کے شائقین کی آمد و رفت بھی جاری تھی۔

محکمے کے مطابق، وہاں موجود کچھ افراد کے رویے نے مسافروں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالی اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا باعث بنا، جس پر اہلکاروں کو مداخلت کرنا پڑی۔

پولیس یونین (SIPE) نے کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کو مکمل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جزوی ویڈیوز کی بنیاد پر۔

ادھر فلوٹیلا کے کچھ ارکان نے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں مبینہ تشدد اور بدسلوکی کا بھی الزام لگایا ہے۔ زخمی ہونے والے دو کارکنوں کی وجہ سے ان کی واپسی میں تاخیر ہوئی تھی۔

دوسری جانب، دیگر ہسپانوی کارکن بارسلونا اور میڈرڈ بھی پہنچے، جہاں ان کا استقبال فلسطینی پرچموں اور نعروں کے ساتھ کیا گیا۔ کارکنوں نے الزام لگایا کہ انہیں “اغوا کیا گیا اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا”۔

ہسپانوی وزیر ثقافت ارنست اُرتاسن نے ان الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے