اسپین حکومت نے 2026 کے بجٹ پیش نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا،2027کا بجٹ تیار کرےگی
Screenshot
میڈرڈ/ اسپین حکومت نے 2026 کے بجٹ پیش نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیرِاعظم پیدروسانچز نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اسی مہینے 2027 کے بجٹ تیار کرنے اور منظور کروانے کے عمل کا آغاز کرے گی۔
انہوں نے کہا “ہم اسی ہفتے وزارتِ خزانہ کو ہدایات جاری کریں گے اور کوشش کریں گے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔”
یہ اعلان بارسلونا میں Cercle d’Economia کی سالانہ میٹنگ کے دوران کیا گیا، جہاں وزیرِاعظم نے یورپ کی خودمختاری اور اسپین کی معاشی ترقی کا بھی دفاع کیا۔
اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اب 2026 کے بجٹ کو چھوڑ کر سیدھا 2027 کے بجٹ پر کام کرے گی۔ سانچز کے مطابق اسی ہفتے بجٹ کی تیاری کا سرکاری حکم (BOE میں) جاری ہوگا۔اسی مہینے معاشی صورتحال (macro data) کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بجٹ منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی
وزیراعظم نے کہا کہ یہ “سماجی نوعیت” کا بجٹ ہوگا، جس میں خاص طور پر فلاحی ریاست (welfare state) کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ہاؤسنگ (رہائش) کے شعبے میں تاریخ کی سب سے بڑی سرکاری سرمایہ کاری کی جائے گی
ساتھ ہی حکومت کا کہنا ہے کہ مالی ذمہ داری برقرار رکھی جائے گی،بجٹ خسارہ کم کیا جائے گااور مدت کے اختتام تک قومی قرضہ GDP کے 100٪ سے نیچے لانے کی کوشش ہوگی
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ یورپی یونین کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کیا جائے گا۔توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاع میں یورپی خودمختاری بڑھائی جائے گی۔خودمختار علاقوں (autonomous communities) کی مالیاتی مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش ہوگی
وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر البرتو فیخو کی مجوزہ تحریکِ عدم اعتماد پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مثبت بات ہے کہ پی پی اب جنتس جیسے سیاسی فریق کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔