باسک ریجن کی سیلیکٹیویٹی میں تنازع: ہسپانوی میڈیم طلبہ کو باسکی زبان کے امتحان میں بڑی تعداد میں صفر نمبر
Screenshot
باسک علاقے میں اس سال کے سیلیکٹیویٹی (یونیورسٹی داخلہ امتحان) کے دوران ایک بڑا تنازع سامنے آیا ہے، جہاں درجنوں طلبہ کو باسکی زبان (Euskera) کے امتحان میں انتہائی کم نمبر، حتیٰ کہ کئی کو صفر دیا گیا ہے۔ یہ خبر اخبار El Correo نے شائع کی، جس میں اساتذہ کے بیانات بھی شامل ہیں جو ان نتائج کو “ناممکن” قرار دے رہے ہیں۔
University of the Basque Country (EHU) نے ان نمبروں کو کسی بڑے تکنیکی مسئلے کا نتیجہ ماننے سے انکار کیا ہے۔ یونیورسٹی کے مطابق صرف آٹھ طلبہ ایسے تھے جنہیں غلطی سے غیر حاضر ظاہر کیا گیا، حالانکہ انہوں نے امتحان دیا تھا۔
یہ مسئلہ زیادہ تر ان طلبہ کو متاثر کر رہا ہے جو ایسے نجی یا نیم سرکاری اسکولوں (Modelo A) میں پڑھتے ہیں جہاں تعلیم کی بنیادی زبان ہسپانوی (Castellano) ہے۔
اسکولوں اور والدین کے مطابق یہ نتائج حیران کن ہیں، کیونکہ متاثرہ طلبہ سال بھر اچھی کارکردگی دکھاتے رہے اور کچھ کے پاس باسکی زبان کے B2 یا C1 سرٹیفکیٹ بھی موجود ہیں۔ ممکنہ وجوہات میں امتحانی کاپیوں کی جانچ میں غلطی یا حد سے زیادہ سخت مارکنگ کو شامل کیا جا رہا ہے۔
ابھی تک یونیورسٹی نے اس حوالے سے کوئی واضح وضاحت نہیں دی، جبکہ یہ صورتحال ان طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو زیادہ نمبر والی ڈگری پروگرامز میں داخلہ لینا چاہتے تھے۔
متاثرہ طلبہ نے اپنے پرچوں کی دوبارہ جانچ کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد نئی اور پرانی مارکس کا اوسط نکالا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکول بھی مشترکہ طور پر احتجاج درج کروانے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ طلبہ نے وضاحت کے مطالبے کے لیے بلباؤ میں مظاہرے کا اعلان کر دیا ہے۔