جس طرح ماضی میں چھاپہ خانے پر تحفظات تھے، اسی طرح مصنوعی ذہانت پر بھی خدشات ہیں، اور اسے انسانی اقدار کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے،بادشاہ فلپ ششم

Screenshot

Screenshot

سپین کے بادشاہ فلپ ششم نے کہا ہے کہ جس طرح ماضی میں چھاپہ خانے (پرنٹنگ پریس) کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، اسی طرح آج مصنوعی ذہانت (AI) بھی خدشات کو جنم دے رہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ AI کو باقاعدہ قوانین کے تحت لانا ضروری ہے تاکہ یہ عدم مساوات میں اضافہ نہ کرے، اور ساتھ ہی پوپ لیون چہار دہم کے ایک خط (انسائیکلیکل) کا حوالہ دیتے ہوئے انسانی وقار کو مرکزِ توجہ رکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔

وینس میں منعقدہ انیسویں COTEC سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے بادشاہ نے مصنوعی ذہانت پر تفصیل سے بات کی۔ اس موقع پر پرتگال اور اٹلی کے صدور بھی موجود تھے۔ اجلاس کا موضوع تھا: “مصنوعی ذہانت کے دور میں کام کی نئی تشکیل: تبدیلی، مواقع اور حکمرانی”۔

انہوں نے کہا کہ AI ایک ایسی قوت ہے جو پیداواری نظام، تنظیمی ڈھانچے، تعلیمی نظام اور انسان کے کام اور علم سے تعلق کو بدل سکتی ہے۔ یہ کارکردگی کو بہتر بنانے اور انسانی صلاحیتوں کو غیر معمولی حد تک بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مناسب قانونی اور ادارہ جاتی نظام نہ ہو تو AI الٹا اثر بھی ڈال سکتی ہے، کام کے معیار کو گرا سکتی ہے، دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹ سکتی ہے اور عدم مساوات کو بڑھا سکتی ہے۔ ان کے مطابق پوپ کے خط میں بھی زور دیا گیا ہے کہ خودکاری ہمیشہ انسانی وقار اور اجتماعی بھلائی کے تابع ہونی چاہیے۔

بادشاہ نے کہا کہ ہمیں ایسی مصنوعی ذہانت درکار ہے جو ہماری اقدار کے مطابق ہو اور ہمارے مستقبل کے مقاصد میں ہمارا ساتھ دے۔ اس حوالے سے انہوں نے ایک اہم توازن کی بات کی،ایک طرف ہمیں یورپ کے ڈیجیٹل مستقبل کو اپنی روایات، آزادیوں اور قوانین سے ہٹ کر نہیں بنانا چاہیے، جس کے لیے احتیاط اور غور و فکر ضروری ہے، اور دوسری طرف ہمیں پیچھے بھی نہیں رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں تاخیر کا مطلب دوسروں پر انحصار کرنا ہے، اس لیے جرات مندانہ اقدامات ضروری ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ہمیشہ اخلاقیات اور جدت کے درمیان کشمکش رہی ہے، اور یہ بھی یاد دلایا کہ کبھی چھاپہ خانے کو بھی شک کی نظر سے دیکھا گیا تھا، مگر آج ہمیں ان تنقیدوں کا علم بھی اسی ٹیکنالوجی کی بدولت ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آج ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ بھی ایسا ہی نہیں ہو رہا؟ اور اس بات پر زور دیا کہ تبدیلی کو روکا نہیں جا سکتا، البتہ اسے بہتر سمت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے تعلیم اور علم کے ذریعے ایک ایسی دنیا بنانے کی اپیل کی جس میں آزادی، شمولیت اور بہتر معیارِ زندگی سب کے لیے ممکن ہو۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے