فرانس میں شدید گرمی کی لہر ، اموات اور معمولاتِ زندگی متاثر
Screenshot
یورپ کے وسیع علاقوں میں غیر معمولی گرمی کی شدید لہر بدستور جاری ہے، جہاں ریکارڈ درجہ حرارت، اموات اور نقل و حمل، توانائی اور تعلیمی شعبوں میں بڑھتی ہوئی مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔ اس دوران برطانیہ رواں ماہ جون میں اپنی تاریخ کے بلند ترین درجہ حرارت کے اندراج کے لیے تیار دکھائی دے رہا ہے۔
خبر رساں ادارے فرانس پریس کے مطابق گرمی کی یہ شدید لہر فرانس، اٹلی، اسپین اور برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی شدید موسمی واقعات کی شدت اور تکرار میں اضافہ کر رہی ہے، جن میں گرمی کی لہریں سرفہرست ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ صورتحال موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی ایک نمایاں مثال ہے، جس کے باعث یورپ کو غیر معمولی موسمی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
فرانس میں شدید گرمی کی لہر کے باعث حکام نے 54 صوبوں میں ریڈ الرٹ یعنی اعلیٰ ترین انتباہ نافذ کر دیا ہے، جبکہ مزید 35 صوبوں کو اورنج الرٹ کے تحت رکھا گیا ہے۔
اس طرح ملک کی 90 فیصد سے زائد آبادی براہِ راست اس غیر معمولی موسمی صورتحال سے متاثر ہو رہی ہے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق ملک میں 1947 سے موسمیاتی ریکارڈنگ کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ گرم رات ریکارڈ کی گئی۔ ملک بھر میں کم سے کم درجہ حرارت کا اوسط 21اعشاریہ6 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو 2019 میں قائم ہونے والے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔کئی علاقوں میں درجہ حرارت 43اعشاریہ3 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ جنوب مغربی فرانس کے بعض حصوں میں یہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔
دریں اثنا فرانسیسی وزیرِ اعظم سیباستیاں لوکورنو نے بتایا کہ 18 جون سے اب تک 40 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں، جو شدید گرمی سے بچنے کے لیے جھیلوں، دریاؤں اور دیگر آبی مقامات کا رخ کر رہے تھے۔ حکام نے شہریوں سے احتیاط برتنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔
شدید گرمی کے باعث فرانس میں توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ حکام نے گولفیش جوہری پاور اسٹیشن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے، کیونکہ گارون دریا کے پانی کا درجہ حرارت ماحول کے تحفظ کے لیے مقرر قانونی حد تک پہنچ گیا تھا۔ جوہری پلانٹس میں استعمال ہونے والے گرم پانی کے اخراج سے ماحول کو نقصان سے بچانے کے لیے یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔
ادھر پیرس اور اس کے نواحی علاقوں میں ریل سروس کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، جہاں شدید گرمی کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت میں تاخیر اور دیگر رکاوٹوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی سے کارکنوں کے تحفظ کے لیے اختیار کیے گئے حفاظتی اقدامات کے باعث مختلف شعبوں میں کاروباری سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، جس سے اقتصادی پیداوار بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب گرمی کی لہر سے متعلق افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ جنوب مشرقی فرانس میں دو اور چار سال عمر کے دو بچوں کی لاشیں ایک گاڑی سے برآمد ہوئیں، جبکہ گزشتہ چند دنوں کے دوران شدید گرمی کے باعث تین معمر افراد اپنے گھروں میں جان کی بازی ہار گئے۔ یہ واقعات گرمی کی موجودہ لہر کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔