ماس اور کولوم کی سرپرستی میں “کاتالانز سگلے 21” کا آغاز: “سب سے بڑا چیلنج احساسِ وابستگی ہے”

IMG_2030

بارسلونا میں ایک نئی تنظیم “کاتالانز دے سگلے اکیس” (Catalans del Segle XXI) کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد تارکینِ وطن کمیونٹیز کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ اس تنظیم کی سرپرستی سابق صدر آرتر ماس نے کررہے ہیں، اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ لوگوں کو بیک وقت کاتالان اور اپنی اصل شناخت (جیسے پاکستانی یا ہونڈوراسی) دونوں کے طور پر خود کو محسوس کرنے کا حق ہونا چاہیے۔

یہ تقریب گراسیا کے سانت فلیپ نیری کے مقام پر منعقد ہوئی، جہاں مختلف تارکینِ وطن تنظیموں نے “فلاما دل کانیگو” (Canigó کا شعلہ) وصول کیا جو کاتالان ثقافت اور روایت کی علامت سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر سانت جوان کے تہوار کے موقع پر۔

جس میں تقریباً چالیس تارکینِ وطن تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس اقدام کو “Fundació Nous Catalans” کی نئی شکل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا فوکس خاص طور پر دوسری نسل کے کاتالان باشندوں پر ہے، یعنی وہ نوجوان جو یا تو کاتالونیا میں پیدا ہوئے یا وہیں پلے بڑھے۔

تقریب کے دوران “Flama del Canigó” (روایتی مشعل) کو بطور علامت پیش کیا گیا، جو ثقافتی وراثت اور اجتماعی شناخت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ہر شریک تنظیم کو اس مشعل کا ایک حصہ دیا گیا۔

تنظیم کی صدر رحمہ البدوی نے کہا کہ نئی کاتالان کمیونٹیز ایک متنوع کاتالونیا کی نمائندگی کرتی ہیں، لیکن اکثر ان کے بارے میں فیصلے ان کی شمولیت کے بغیر کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاتالان شناخت کسی نسل یا اصل سے نہیں بلکہ وابستگی، عزم اور مشترکہ اقدار سے بنتی ہے۔ زبان کو انہوں نے معاشرتی اتحاد کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔

تنظیم کے اعزازی صدر آنخل کولوم نے کہا کہ کاتالان ازم کو دوبارہ ایک ایسا مضبوط ستون بنانا ہوگا جو سب کو ساتھ لے کر چلے۔ ان کے مطابق اس تنظیم کا مقصد یہ ہے کہ لوگ خود کو کاتالان بھی محسوس کریں، چاہے ان کی اصل پاکستانی، مراکشی، کولمبین یا کسی اور ملک سے ہو۔

آنخل کولوم نے مزید کہا کہ کاتالان قومیت ہمیشہ سے ایک جامع اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والا نظریہ رہی ہے، مگر حالیہ برسوں میں اس پر توجہ کم ہو گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 30 سال میں تقریباً 30 لاکھ افراد کاتالونیا آئے، اور اصل کام یہ ہے کہ وہ خود کو کاتالان محسوس کریں، بغیر اپنی اصل شناخت کھوئے۔

سابق صدر آرتر ماس نے اپنے خطاب میں کہا کہ کاتالونیا نے ہمیشہ مختلف ثقافتوں کو اپنے اندر سمویا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ شناخت، زبان اور ثقافت کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشروں کو ہجرت کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں میں تعلق اور وابستگی کا احساس بھی پیدا کرنا چاہیے۔

آرتور ماس نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی کامیابی اس میں ہے کہ وہ سماجی تناؤ کو ختم کرنے کے بجائے اسے سنبھالے اور حل کرے۔ ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ لوگ خود کو اس ملک کا حصہ سمجھیں، جس کے لیے زبان، ثقافت اور مشترکہ اقدار بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔

تقریب کے منتظمین کے مطابق، یہ ایک اہم قدم ہے کیونکہ کئی برسوں بعد پہلی بار مختلف تارکینِ وطن گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا ہے، تاکہ معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

یہ تنظیم مستقبل میں ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں، مکالموں اور پوڈکاسٹس کے ذریعے ایک متنوع مگر متحد کاتالان معاشرہ بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس کا مقصد امیگریشن کے حوالے سے جاری بحث کو مسائل کے بجائے مواقع، صلاحیت اور قیادت پر مرکوز کرنا ہے۔

 1909 میں اسی مقام کو “ٹریجک ویک” کے دوران نذر آتش کیا گیا تھا، جس پر شاعر جوان ماراگال نے معاشرتی ہم آہنگی اور خود احتسابی کی اپیل کی تھی۔ آج اسی جگہ پر ایک نئی کوشش کی جا رہی ہے کہ معاشرہ مزید متحد اور مضبوط بن سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے