سائپرس میں پاکستانی طالب علم قتل ، یونان میں مقیم والد سے بڑی رقم کا مطالبہ کیا گیا۔
Screenshot
سائپرس کے ضلع لارنکا میں لاپتہ ہونے والے نوجوان طالب علم شہریار احمد کی لاش برآمد ہونے کے بعد افسوسناک تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اغوا کاروں نے نوجوان کے والد، جو یونان میں مقیم ہیں، سے تاوان کا مطالبہ کیا تھا، تاہم رقم نہ ملنے کے بعد طالب علم کو قتل کر دیا گیا۔ اور آج ایک 22 جون 2026 کو لارنکا ڈسٹرکٹ کورٹ میں 22 سالہ ملزم کی ریمانڈ سماعت ہوئی، جس نے طالب علم شہزاد احمد کے بہیمانہ قتل کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق شہزاد احمد ، جو چند ماہ قبل تعلیم کے لیے قبرص کے شہر لارنکا آیا تھا، 12 جون کی شام 6:30 بجے کے بعد لاپتہ ہوا جب اس نے اپنے فلیٹ میٹس کو بتایا کہ وہ کام کے لیے کوفینو جا رہا ہے، تاہم بعد میں اس کے اہل خانہ کو تاوان کے مطالبات اور اس کے موبائل فون سے ایک لوکیشن پن موصول ہوا جس پر ابتدا میں اغوا کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ تفتیش کے دوران صورتحال اس وقت بدل گئی جب ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے شہزاد کو اوروکلینی سے کوفینو کے ایک ویران علاقے میں بہلا کر بلایا، جہاں اس نے اسے چھری کے وار کر کے قتل کیا، لاش کو جھاڑیوں میں چھپایا، موبائل فون چوری کیا اور اہل خانہ سے تاوان وصول کرنے کے لیے جعلی اغوا کی کہانی گھڑی۔ بعد ازاں پولیس نے ملزم کی نشاندہی پر کوفینو کے قریب تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر، مائیگرنٹ ریسیپشن سینٹر اور ایک مقامی سلاٹر ہاؤس کے نزدیک سے لاش برآمد کی جو شدید گلنے سڑنے کے مرحلے میں تھی، جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں گردن اور پیٹھ پر گہرے چھری کے زخموں کے ساتھ ممکنہ طور پر گلا دبانے کے شواہد بھی سامنے آئے۔ تفتیش میں ملزم نے دعویٰ کیا کہ اس کی ملاقات مقتول سے بس میں ہوئی تھی اور کسی ذاتی تنازعے کے باعث یہ واقعہ پیش آیا، تاہم پولیس کے مطابق کیس کا بنیادی محرک مالی لگتا ہے کیونکہ قتل کے بعد تاوان کے مطالبات کیے گئے جن میں پہلے 10 ہزار اور بعد میں 25 ہزار یورو مانگے گئے اور دھمکی دی گئی کہ پولیس کی شمولیت پر اہل خانہ کو نقصان پہنچایا جائے گا۔