توانائی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ریاست کے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں گے،پیدروسانچز

Screenshot

Screenshot

اسپین کے وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز نے اعلان کیا ہے کہ حکومت اگلے پیر کو ایک نیا اینٹی کرائسس ڈیکری منظور کرے گی، جس کے تحت “ریاست کے تمام وسائل کو اس وقت تک استعمال کیا جائے گا جب تک ضرورت ہو”، تاکہ خاندانوں اور خود روزگار افراد (آٹونوموس) کو غیر محفوظ نہ چھوڑا جائے۔

یہ نیا پیکیج موجودہ اقدامات کی توسیع ہوگا، جو ایران کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا اور 30 جون کو ختم ہو رہا ہے۔ سانچیز نے واضح کیا کہ نئی اسکیم میں عمومی نوعیت کی امداد بھی شامل ہوگی، ساتھ ہی ان شعبوں کے لیے مخصوص مدد بھی دی جا سکتی ہے جو توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

مارچ میں شروع کیے گئے پہلے پیکیج میں بجلی، گیس اور ایندھن پر ٹیکس میں کمی کے ساتھ ساتھ متاثرہ شعبوں کے لیے براہِ راست امداد شامل تھی۔ کچھ اقدامات یکم جون کو ختم ہو چکے ہیں، تاہم حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ قیمتوں کی صورتحال پر نظر رکھ کر ضرورت پڑنے پر دوبارہ رعایتیں دی جا سکتی ہیں۔

سانچیز نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ “وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ملک کے مفاد میں ساتھ دیں”، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ان کے مطابق اسپین کی معیشت بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کے نیکسٹ جنریشن فنڈز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ یورپ کی بہترین پالیسیوں میں سے ایک ہے اور اسی راستے پر قائم رہنا چاہیے۔

یورپی کمیشن کی نائب صدر تریسا ریبیرا نے بھی اس بات پر زور دیا کہ آئندہ یورپی بجٹ میں اینٹی کرائسس پالیسی کی سمت کو برقرار رکھا جائے، کیونکہ اس نے نہ صرف وسائل فراہم کیے بلکہ اصلاحات اور سرمایہ کاری کے لیے ایک واضح راستہ بھی دیا۔

حکومت کے لیے ایک اہم تاریخ 31 اگست ہے، جب یورپی فنڈز کے استعمال کی آخری ڈیڈ لائن ختم ہوگی۔ اپریل 2026 تک اسپین نے 123 ارب یورو کے منصوبے منظور کیے، جن میں سے تقریباً 82.5 فیصد پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔

وزیرِ معیشت کارلوس کویئرپو کے مطابق، ان فنڈز نے نہ صرف معیشت کو سہارا دیا بلکہ روزگار میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔ ان کے مطابق یورو زون میں پیدا ہونے والی نئی ملازمتوں کا 50 فیصد اسپین میں پیدا ہوا، اور ان میں زیادہ تر اعلیٰ معیار کے شعبوں سے تعلق رکھتی ہیں۔

انہوں نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت میں اضافے کو بھی اہم قرار دیا، جس سے ایران کی جنگ جیسے بحران کے دوران اثرات کم ہوئے۔ ساتھ ہی غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر امریکہ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے۔

آخر میں حکومت نے اشارہ دیا کہ یہ منصوبہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس کے تحت “اسپین کریسے” پروگرام کے ذریعے مزید سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے