یورپ میں موسمِ گرما کی پہلی ہیٹ ویو سب سے زیادہ شدید اور لمبی قرار

Screenshot

Screenshot

یورپ میں اس موسمِ گرما کی پہلی ہیٹ ویو کو اب تک کی “سب سے زیادہ شدید اور وسیع” قرار دیا گیا ہے، جس میں تقریباً 15 کروڑ افراد نے 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت برداشت کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ غیر معمولی گرمی موسمیاتی تبدیلی کے باعث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کے تجزیے کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی ہے کیونکہ تاریخی طور پر جون کا مہینہ مغربی یورپ میں اتنا گرم نہیں ہوتا، لیکن اس بار درجہ حرارت معمول سے 5 سے 12 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہوائیں اور “ہیٹ ڈوم” کا اثر بتایا گیا ہے، جس نے مئی کے آخر میں بھی درجہ حرارت کو 40 ڈگری تک پہنچا دیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ نمی (ہمیڈیٹی) نے گرمی کی شدت کو مزید بڑھا دیا، خاص طور پر فرانس میں جہاں مسلسل دو دن درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹے۔ اب تک فرانس میں اس ہیٹ ویو کے باعث 55 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں جو گاڑیوں میں بند رہ گئے تھے، جبکہ کئی نوجوان غیر محفوظ مقامات پر نہاتے ہوئے جان سے گئے۔

فرانس میں 70 سے زائد علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا اور تقریباً 4 کروڑ 40 لاکھ افراد شدید گرمی کی لپیٹ میں آئے۔ پیرس میں جون کے مہینے میں پہلی بار درجہ حرارت 40.9 ڈگری تک پہنچ گیا۔ حکام نے عوامی مقامات پر شراب نوشی پر عارضی پابندی بھی عائد کر دی کیونکہ اسے گرمی میں خطرے کا باعث سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس ہیٹ ویو کے اصل اثرات، خاص طور پر اموات کی مجموعی تعداد، کا اندازہ لگانے میں ابھی کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ 2022 میں یورپ میں شدید گرمی کے باعث 60 ہزار سے زائد اموات ہوئیں تھیں۔

اس بار کی ہیٹ ویو کی ایک خاص بات “ٹرپیکل نائٹس” (یعنی رات کو بھی زیادہ درجہ حرارت) ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو آرام نہیں مل سکا۔ یہ لہر زیادہ تر شمالی اسپین، جنوبی فرانس، برطانیہ، بیلجیم، نیدرلینڈز، جرمنی اور پولینڈ تک پھیلی۔

ماہر تھیوڈور کیپنگ کے مطابق“جون میں اس شدت کا واقعہ موسمیاتی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ گزشتہ 50 سال میں زمین کا درجہ حرارت تقریباً 1.1 ڈگری بڑھ چکا ہے، جس سے ایسی ہیٹ ویوز کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔”

مزید یہ کہ یورپ کے کئی ممالک میں انفراسٹرکچر اور گھروں میں ایئر کنڈیشننگ نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔ لندن میں ایک دن میں ایمرجنسی کالز کا ریکارڈ بنا، جبکہ پیرس میں دل کے دوروں سے روزانہ اموات معمول سے ڈھائی گنا زیادہ ہو گئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو یہ گرمی کی لہر یورپ کی تاریخ کی ریکارڈ ہیٹ ویوز میں شمار ہو سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے