کاتالونیا میں LGBTI+ کے خلاف نفرت انگیز واقعات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے
Screenshot
کاتالونیا میں LGBTI+ افراد کے خلاف نفرت انگیز واقعات کی تعداد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جہاں آبزرویٹری اگینسٹ LGBTI فوبیا نے سال 2025 میں 353 کیسز ریکارڈ کیے۔
28 جون کو عالمی یومِ فخر (پرائیڈ ڈے) کے موقع پر جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، اور 2015 کے بعد یہ تعداد تقریباً تین گنا ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہم جنس پرست مرد اب بھی سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں، جو کل کیسز کا 47 فیصد ہیں، جبکہ ٹرانس فوبیا 36 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ آبزرویٹری کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ ٹرانس افراد کی بڑھتی ہوئی سماجی شناخت کے خلاف مزاحمت ہے، حالانکہ قانونی تحفظات میں اضافہ کیا گیا ہے۔
کئی واقعات میں ادارہ جاتی سطح پر غلط شناخت (misgendering) سامنے آئی۔ جیرونا میں ایک ڈاکٹر نے ٹرانس مریض کو اس کے پسندیدہ نام سے پکارنے کی درخواست کو “بے وقوفی” قرار دے کر فون بند کر دیا۔ اسی طرح پورت دے لا سیلوا کے رجسٹری دفتر میں ایک ٹرانس خاتون کو بار بار مرد کہہ کر مخاطب کیا گیا۔
پہلی بار نجی مقامات، سوشل میڈیا اور کام کی جگہوں پر ہونے والے واقعات (56 فیصد) نے عوامی مقامات (44 فیصد) کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کام کی جگہ پر امتیازی سلوک 2021 کے بعد دوگنا ہو چکا ہے اور اب تقریباً 15 فیصد کیسز پر مشتمل ہے۔
مثال کے طور پر ایک خاتون کو بینکنگ سیکٹر میں اپنے اعلیٰ افسران کی جانب سے صنفی اور ہم جنس پرست مخالف ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ایک ٹرانس ہوٹل ملازم کو خواتین کے چینجنگ روم استعمال کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔
ڈیجیٹل تشدد بھی بڑھ کر 14 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ایک ٹرانس خاتون کو سوشل میڈیا پر یہ کہہ کر نشانہ بنایا گیا کہ وہ “ہمیشہ مرد ہی رہے گی۔”
رپورٹ میں پہلی بار LGBTI+ افراد میں بے گھری کے مسئلے پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں اور مہاجرین میں یہ مسئلہ زیادہ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ خاندانی ردعمل اور ادارہ جاتی رکاوٹیں ہیں۔
بارسلونا میں ایک بے گھر شخص کو خیمے میں رہتے ہوئے ایک گروہ نے ہم جنس پرست مخالف نعرے لگاتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ شخص نے اپنی غیر قانونی حیثیت کے خوف سے رپورٹ درج نہیں کروائی۔
نئے کاتالان قانون 13/2025 کے تحت نہ صرف سزاؤں کو سخت کیا گیا ہے بلکہ سرکاری دستاویزات میں غیر بائنری افراد کے لیے تیسری شناختی آپشن بھی شامل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نام نہاد “کنورژن تھراپی” پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، چاہے فرد کی رضامندی ہی کیوں نہ ہو۔
رپورٹ کے مطابق اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے متاثرین، خاص طور پر کم عمر اور بزرگ افراد، واقعات رپورٹ نہیں کرتے۔ اس کی وجہ نظام پر عدم اعتماد اور ذہنی تھکن ہے۔
ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ بار میں حملے کے بعد اسے حملہ آور کے ساتھ ہی ایمبولینس میں بٹھایا گیا اور بعد میں پولیس نے خود اس پر جرمانہ عائد کر دیا۔
رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ “واقعات کو دستاویزی شکل دینا دراصل تحفظ فراہم کرنا ہے”، اور LGBTI+ افراد کے حقوق کو کسی بھی معاشرے کی جمہوری معیار کا اہم پیمانہ قرار دیا گیا ہے۔