سانچیز نے آبالوس، سردان اور لیئرے دیئز سے متعلق معاملات کو چند افراد کی کرپشن قرار دے دیا

Screenshot

Screenshot

ہسپانوی وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے آبالوس، سانتوس سردان اور لیئرے دیئز سے جڑے اسکینڈلز کو “چند مخصوص افراد کی کرپشن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے عہدوں کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

انہوں نے سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کی فیڈرل کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے کبھی بھی غیر قانونی فنڈنگ نہیں کی، اور اگر ایسی سرگرمیوں کا علم ہوتا تو انہیں ہرگز برداشت نہ کیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی گئی اور انہیں پارٹی سے الگ کر دیا گیا۔

سانچیز نے سابق وزیرِاعظم خوسے لوئس رودریگیز زاپاتیرو کے ذاتی پیغامات کے افشا ہونے کو “زیادتی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف ان کے قانونی حقوق متاثر ہوئے بلکہ ذاتی اور خاندانی سطح پر بھی شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے زور دیا کہ زاپاتیرو کو صفائی کا پورا موقع دیا جانا چاہیے اور بے گناہی کے اصول کو مقدم رکھا جائے۔

انہوں نے اپنی اہلیہ بیگونیا گومیز اور بھائی دیود سانچیز کے خلاف کیسز کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات جھوٹ پر مبنی تھے جنہیں بعد میں شدت پسند تنظیموں نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

مزید برآں، سانچیز نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی پی اور ووکس جیسے دائیں بازو کے جماعتیں اب ان قوتوں کے ساتھ کھڑی ہیں جن پر وہ پہلے تنقید کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2018 کے بعد کافی ترقی کی ہے، لیکن کرپشن کے مکمل خاتمے کے لیے مزید کام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے عوامی غصے اور مایوسی کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن ہمیشہ مایوسی پیدا کرتی ہے، لیکن سب سیاستدان ایک جیسے نہیں ہوتے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں نوکریاں پیدا کی گئیں، پنشن میں اضافہ ہوا، کم از کم اجرت بڑھی اور سماجی و معاشی اصلاحات متعارف کروائی گئیں۔

آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے کچھ اہم اقدامات میں مزید تین ماہ کی توسیع کرے گی، تاکہ عوام کو بڑھتی قیمتوں کے دباؤ سے بچایا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے