اسپین میں 29 نومبر کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل کیے گئے 6 ہزار انتخابی تخمینوں کے مطابق وزیراعظم پیدرو سانچیز کے لیے سیاسی صورتحال انتہائی مشکل دکھائی دے رہی ہے۔ سروے کے مطابق دائیں بازو کی جماعتوں کی مطلق اکثریت ختم ہونے کا امکان محض 0.1 فیصد ہے، جبکہ سوشلسٹ پارٹی (PSOE) کے ووٹوں اور نشستوں کے لحاظ سے پاپولر پارٹی (PP) کو پیچھے چھوڑنے کے امکانات بھی انتہائی کم ہیں۔
اسپین کے اخبار ’ایل ایسپانیول‘ میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق، سوشلسٹ پارٹی کے پاپولر پارٹی کے برابر یا اس سے زیادہ پارلیمانی نشستیں حاصل کرنے کا امکان 8.5 فیصد ہے، جبکہ ووٹوں میں آگے نکلنے کے امکانات صرف 5.4 فیصد ہیں۔
تجزیے کے مطابق اگر آج انتخابات ہوں تو سوشلسٹ پارٹی اور اس کی بائیں بازو کی اتحادی جماعتیں 2023 میں حاصل کردہ 152 نشستوں کے مقابلے میں صرف 117 نشستیں حاصل کر سکیں گی، یعنی انہیں 35 نشستوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پاپولر پارٹی، ووکس (Vox) اور یو پی این (UPN) پر مشتمل اتحاد کو واضح برتری حاصل ہونے کا امکان ہے۔ تجزیے میں شامل 19 فیصد منظرناموں میں یہ اتحاد آئینی ترمیم کے لیے درکار 210 نشستوں تک پہنچ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2023 کے انتخابات میں سوشلسٹ پارٹی اور سومار (Sumar) کو مجموعی طور پر 44 فیصد ووٹ ملے تھے، جبکہ پاپولر پارٹی اور ووکس کا مجموعی ووٹ 45 فیصد تھا۔ تاہم موجودہ تخمینوں میں بائیں بازو کی جماعتوں کا مجموعی ووٹ تقریباً 33.6 فیصد، جبکہ دائیں بازو کی جماعتوں کا ووٹ 51.3 فیصد بتایا گیا ہے۔
سروے کے مطابق سوشلسٹ پارٹی کی نشستیں 121 سے کم ہو کر 107 رہ سکتی ہیں، جبکہ سومار سے وابستہ جماعتوں کی مجموعی نشستیں 31 سے گھٹ کر تقریباً 10 رہنے کا امکان ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بائیں بازو کی جماعتوں کی انتخابی واپسی ناممکن نہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہوگا کہ سابقہ ووٹر بڑی تعداد میں واپس آئیں، خصوصاً میڈرڈ، بارسلونا، ویلینسیا اور سیویل میں۔
