اسرائیل کی سیاست میں گادی ایزنکوٹ ایک اہم شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ سابق آرمی چیف اور تجربہ کار فوجی کمانڈر ایزنکوٹ نے نیتن یاہو کی حکومت میں بھی اہم کردار ادا کیا، تاہم بعد میں دونوں کے درمیان سیاسی اختلافات پیدا ہوگئے۔ ان کی سیاسی شناخت غزہ جنگ، ایران سے متعلق حکمتِ عملی، فوجی پالیسی اور 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کی تحقیقات جیسے معاملات سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے سیاسی مستقبل اور وزارتِ عظمیٰ کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ان کے فوجی کیریئر، سیاسی سفر اور فلسطین سے متعلق مؤقف کو سمجھنا ضروری ہے۔
فوجی زندگی سے سیاست تک کا سفر
گادی ایزنکوٹ 19 مئی 1960 کو اسرائیل کے شہر طبریہ میں مراکشی نژاد یہودی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش جنوبی شہر ایلات میں ہوئی۔ انہوں نے 1978 میں اسرائیلی فوج کی گولانی انفنٹری بریگیڈ میں شمولیت اختیار کی اور 41 سالہ فوجی کیریئر کے دوران مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ مغربی کنارے میں فوجی ڈویژن کے کمانڈر، شمالی کمان کے سربراہ، فوج کے آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اور نائب آرمی چیف بھی رہے۔
فروری 2015 میں انہیں اسرائیلی فوج کا 21واں چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا۔ وہ جنوری 2019 میں اس عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کے فوجی تجربے نے انہیں اسرائیل کی سلامتی اور علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے ایک نمایاں شخصیت بنایا۔ IDF +1
نیتن یاہو کے اتحادی سے سیاسی حریف تک
ایزنکوٹ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے تعلقات ابتدا میں حکومتی اور فوجی تعاون پر مبنی تھے۔ نیتن یاہو ہی کے دور میں انہیں فوج کی سربراہی سونپی گئی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے درمیان سیاسی اور حکمتِ عملی کے اختلافات بڑھتے گئے۔
ایزنکوٹ نے 2022 میں بینی گینٹز کی نیشنل یونٹی جماعت میں شمولیت اختیار کرکے باقاعدہ سیاست کا آغاز کیا۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد وہ نیتن یاہو کی ہنگامی حکومت میں شامل ہوئے اور جنگی کابینہ کے مبصر رکن کی حیثیت سے کام کیا۔ تاہم، جنگ کے مستقبل اور حکومتی حکمتِ عملی پر اختلافات کے باعث جون 2024 میں انہوں نے حکومت چھوڑ دی۔
ستمبر 2025 میں انہوں نے گینٹز سے علیحدگی کے بعد اپنی سیاسی جماعت ’’یاشار!‘‘ قائم کی۔ عبرانی زبان میں اس نام کا مفہوم سیدھا، دیانت دار یا راست باز ہے۔ اب وہ نیتن یاہو کے خلاف سیاسی میدان میں ایک اہم حریف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ The Jerusalem Post +1
ضاحیہ ڈاکٹرائن اور متنازع فوجی حکمتِ عملی
ایزنکوٹ کا نام ’’ضاحیہ ڈاکٹرائن‘‘ سے بھی منسلک ہے۔ یہ فوجی نظریہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کے علاقے ضاحیہ سے منسوب ہے، جہاں حزب اللہ کی موجودگی رہی ہے۔ اس نظریے کے تحت مخالف گروہ کے حملوں کے جواب میں بڑے پیمانے پر فوجی طاقت استعمال کرنے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کی حکمتِ عملی اختیار کی جاتی ہے۔
2006 کی لبنان جنگ کے بعد سامنے آنے والی اس حکمتِ عملی کو انسانی حقوق اور جنگی اثرات کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں عام شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ ایزنکوٹ کی فوجی سوچ کو سمجھنے کے لیے یہ نظریہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ A Yashar Path for Israel +1
غزہ جنگ اور ذاتی صدمے
اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایزنکوٹ اسرائیلی جنگی پالیسیوں سے وابستہ اہم شخصیات میں شامل رہے۔ ان کے 25 سالہ بیٹے گال ایزنکوٹ 7 دسمبر 2023 کو شمالی غزہ میں فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔ جنگ میں ان کے دو بھتیجے بھی مارے گئے۔ ان واقعات نے ان کی ذاتی زندگی اور سیاسی شناخت پر گہرا اثر ڈالا۔
تاہم، ان کے ذاتی نقصان اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے ان کے کردار کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔ ایزنکوٹ حماس کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کے خاتمے کے حامی ہیں اور ان کی سیاسی حکمتِ عملی میں بھی اسرائیل کی سلامتی کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ The Jerusalem Post +1
فلسطین اور حماس کے بارے میں مؤقف
فلسطینی ریاست کے قیام کے معاملے پر ایزنکوٹ کا مؤقف سخت ہے۔ اکتوبر 2026 میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے قبل انہوں نے دو ریاستی حل کی مخالفت کی اور کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام ان کی قیادت میں بننے والی حکومت کی پالیسی نہیں ہوگا۔
وہ حماس کی فوجی اور انتظامی صلاحیتوں کو ختم کرنے اور غزہ میں متبادل انتظامیہ قائم کرنے کے حامی ہیں۔ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے معاملے پر ان کا مؤقف نیتن یاہو سے کچھ مختلف ہے: وہ اسرائیلی قانون کے مطابق قائم بستیوں کی حمایت کرتے ہیں، لیکن غیر مجاز چوکیوں کی مخالفت اور آبادکاروں کے تشدد کے خلاف کارروائی پر زور دیتے ہیں۔
اس لیے نیتن یاہو کی جگہ ایزنکوٹ کے آنے کا مطلب لازماً فلسطین کے معاملے میں بنیادی تبدیلی نہیں ہوگا۔ دونوں رہنما فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہیں، اگرچہ مغربی کنارے کی بستیوں اور حکومتی اتحاد کے حوالے سے ان کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ Reuters +1
ایران اور اسرائیل کی علاقائی حکمتِ عملی
ایران کے معاملے پر ایزنکوٹ اور نیتن یاہو دونوں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے حامی ہیں۔ تاہم، ایزنکوٹ نے ایرانی حکومت گرانے کے ہدف کو حد سے زیادہ بلند اور مشکل قرار دیا ہے۔ ان کی سوچ میں فوجی کارروائیوں کے نتائج کو سفارتی معاہدوں اور سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے پر بھی زور دیا جاتا ہے۔
یہ فرق اسرائیل کی مستقبل کی خارجہ پالیسی کے لیے اہم ہوسکتا ہے، تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران سے متعلق بنیادی سلامتی کے اہداف میں نمایاں مماثلت بھی موجود ہے۔ The Jerusalem Post +1
نیتن یاہو کے خلاف ایزنکوٹ کے اہم مطالبات
ایزنکوٹ نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے دوران اسرائیلی سکیورٹی کی ناکامیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ نیتن یاہو کی جنگی حکمتِ عملی پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ انتہائی مذہبی یہودیوں کو بھی فوجی یا قومی خدمت کے نظام میں شامل کرنے کے حامی ہیں۔
ان کے انتخابی ایجنڈے میں اسرائیلی سکیورٹی کو مضبوط بنانا، حکومتی احتساب اور فوجی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم اہم موضوعات ہیں۔ The Times of Israel +1
کیا ایزنکوٹ اسرائیل کے اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں؟
27 اکتوبر 2026 کے اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو اور ایزنکوٹ کے درمیان مقابلہ اسرائیل کی سیاست کا اہم موضوع ہے۔ تاہم، اسرائیل میں وزیراعظم بننے کے لیے صرف سب سے زیادہ ووٹ یا نشستیں حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ 120 رکنی پارلیمان میں کم از کم 61 ارکان کی حمایت کے ساتھ حکومت بنانے کے قابل ہونا بھی ضروری ہے۔
انتخابی جائزوں میں دونوں سیاسی کیمپوں کے درمیان سخت مقابلے کی نشاندہی کی گئی ہے، لیکن حتمی نتیجہ اور حکومت کی تشکیل اتحادی جماعتوں کے فیصلوں پر منحصر ہوگی۔ The Indian Express +1
ایزنکوٹ کا سیاسی مستقبل صرف نیتن یاہو کی مخالفت سے طے نہیں ہوگا۔ ان کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ وہ مختلف جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے حکومت بنا سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو اسرائیل کی داخلی سیاست اور حکومتی طرزِ عمل میں تبدیلیاں ممکن ہیں، لیکن فلسطینی ریاست، غزہ اور علاقائی سلامتی کے معاملات پر ان کے موجودہ مؤقف کو دیکھتے ہوئے بڑی پالیسی تبدیلی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
