تحریر۔۔۔سیدہ ذکیہ ذوالقرنین
2 اکتوبر 2026 کو اسپین کی پارلیمنٹ میں حکومتِ Pedro Sánchez کی جانب سے رہائش کے بحران سے متعلق پیش کیے گئے دو اہم Real Decreto-ley مسترد کر دیے گئے۔ ان اقدامات میں کرایہ داروں کے تحفظ، کرایوں کے مسئلے، بے دخلی سے متاثرہ افراد کے لیے تحفظ اور رہائش کے بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز شامل تھیں۔
جمہوریت میں سیاسی اختلاف فطری ہے اور ہر سیاسی جماعت کو اپنے مؤقف کے مطابق کسی قانون کی حمایت یا مخالفت کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اس پورے معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ رہائش جیسی بنیادی انسانی ضرورت بھی سیاسی اختلافات کی نذر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ہم ایک ایسے ترقی یافتہ ملک اور معاشرے میں رہتے ہیں جہاں جدید سہولیات، مضبوط انفراسٹرکچر اور ترقی کے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن اسی معاشرے میں ہزاروں انسان ایسے بھی ہیں جو اپنے سر پر چھت سے محروم ہیں اور سڑکوں پر رات گزارنے پر مجبور ہیں۔
بارسلونا کے تازہ اعداد اس صورتحال کی سنگینی کو بہت واضح کرتے ہیں۔ Arrels Fundació کی دسمبر 2025 کی شہر گیر گنتی کے مطابق ایک ہی رات میں 1,982 افراد بارسلونا کی سڑکوں پر سوتے ہوئے پائے گئے۔ یہ پچھلی گنتی کے مقابلے میں 43.2 فیصد اضافہ ہے۔ اور یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ صرف ایک رات کی گنتی ہے؛ یعنی یہ ضروری نہیں کہ شہر میں موجود ہر بے گھر شخص اس شمار میں شامل ہو گیا ہو۔
اعداد پر نظر ڈالیں تو صورتحال مزید تشویش ناک نظر آتی ہے:
🔹 Sants-Montjuïc – 489 افراد
🔹 L’Eixample – 389 افراد
🔹 Ciutat Vella -372 افراد
🔹 Sant Martí- 335 افراد
یہ صرف اعداد نہیں ہیں۔ یہ 1,982 انسان ہیں۔ ہر انسان کی اپنی زندگی، اپنی کہانی اور اپنے حالات ہیں۔ کوئی روزگار کھونے کے بعد اس صورتحال میں پہنچا ہوگا، کسی کے لیے کرایہ برداشت سے باہر ہو گیا ہوگا، کسی کا خاندانی نظام ٹوٹ گیا ہوگا اور کسی نے شاید بیماری، مالی مشکلات یا دوسرے حالات کے باعث اپنا گھر کھو دیا ہوگا۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بے گھر ہونا صرف کسی ایک طبقے یا کسی ایک کمیونٹی کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب ایک شہر میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر سونے پر مجبور ہوں تو یہ صرف ان لوگوں کی ناکامی نہیں، بلکہ معاشرے اور نظام کے لیے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔
اسی لیے سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پارلیمنٹ میں کون سی جماعت جیتی اور کون سی جماعت ہاری۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ:
جس شخص کے پاس آج رات سونے کے لیے گھر نہیں، اس کے لیے حل کیا ہے؟
وہ خاندان کیا کرے جس کی آمدنی کا بڑا حصہ کرائے میں چلا جاتا ہے؟ وہ نوجوان کیا کرے جو کام تو کر رہا ہے لیکن اپنی آمدنی کے باوجود اپنا گھر حاصل نہیں کر پا رہا؟ وہ بزرگ یا کمزور شخص کہاں جائے جس کے پاس محفوظ رہائش کا انتظام نہیں؟
اگر حکومت کا پیش کردہ منصوبہ کسی سیاسی جماعت کو قابلِ قبول نہیں تو وہ اس کی مخالفت کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک قابلِ عمل متبادل حل بھی سامنے آنا چاہیے۔ اگر کرایوں کو کنٹرول کرنے کی پالیسی پر اختلاف ہے تو کرایہ داروں اور مکان مالکان دونوں کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے بہتر پالیسی بنائی جائے۔ اگر اصل مسئلہ گھروں کی کمی ہے تو سستے اور قابلِ رسائی گھروں کی تعمیر پر توجہ دی جائے۔ اور اگر بے دخلی کا مسئلہ ہے تو متاثرہ خاندانوں کے لیے مؤثر متبادل رہائش کا انتظام کیا جائے۔
کیونکہ صرف قانون کو مسترد کرنا مسئلہ حل نہیں کرتا؛ مسئلہ حل کرنے کے لیے متبادل راستہ بھی دینا پڑتا ہے۔
اسپین جیسے ترقی یافتہ ملک میں رہائش کو صرف سیاسی کشمکش کا موضوع نہیں بننا چاہیے۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، دائیں بازو ہو یا بائیں بازو، ہر سیاسی قوت کے سامنے ایک ہی بنیادی حقیقت ہے: لوگوں کو گھر چاہیے۔
سیاست ضروری ہے، اختلافِ رائے بھی ضروری ہے، لیکن سیاست کا آخری مقصد بھی تو انسان کی زندگی کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔
کسی معاشرے کی ترقی صرف اس کی بلند عمارتوں، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت سے نہیں ناپی جانی چاہیے۔ ترقی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس معاشرے کا سب سے کمزور انسان کس قدر محفوظ ہے۔
اگر بارسلونا جیسے شہر میں تقریباً دو ہزار لوگ صرف ایک رات میں سڑکوں پر سوتے ہوئے ملیں، تو ہمیں اس مسئلے کو محض اعداد و شمار سمجھ کر آگے نہیں بڑھ جانا چاہیے۔
گھر کوئی عیش و آرام نہیں۔ گھر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔
حکومتیں بدلتی ہیں، پارٹیاں بدلتی ہیں، پارلیمنٹ میں ووٹ کبھی حق میں اور کبھی مخالفت میں آتے ہیں، لیکن جس شخص کے پاس آج رات گھر نہیں، اس کے لیے یہ مسئلہ کل تک مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔
اسی لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی رہائش کے بحران پر کم از کم ایک مشترکہ انسانی اور عملی راستہ تلاش کریں۔
کیونکہ آخر میں سوال یہ نہیں کہ کس پارٹی نے کیا کہا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے شہر میں رہنے والے انسان کے پاس رہنے کے لیے گھر ہے یا نہیں۔
اور یاد رکھنا چاہیے:
گھر صرف چار دیواری نہیں؛
گھر تحفظ ہے، عزت ہے، سکون ہے اور انسان کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہے۔
