راجہ نامدار اقبال ایڈووکیٹ کے ساتھ میرا تعلق آج کا نہیں بلکہ اُس وقت سے ہے جب وہ ابھی قانون کا طالب علم تھا۔ زمانۂ طالب علمی سے لے کر آج تک ہمارا تعلق محبت، احترام، اعتماد اور بھائی چارے پر قائم ہے۔
اس طویل عرصے میں ہمارا ساتھ صرف ذاتی دوستی تک محدود نہیں رہا، بلکہ کاتالان فیڈریشن، سیاسی و سماجی سرگرمیوں، اسپورٹس اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے مختلف شعبوں میں ہم نے مل کر کام کیا اور ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ سیاست کے میدان سے لے کر کھیلوں کے فروغ تک، فیڈریشن کی ذمہ داریوں سے لے کر سماجی خدمت تک، ہمیں بہت سے مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اسی مشترکہ جدوجہد اور برسوں کے ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں راجہ دامدار اقبال کو بہت قریب سے اور اچھی طرح جانتا ہوں۔
میں انہیں ایک پڑھے لکھے، باصلاحیت، پروفیشنل اور ایماندار انسان کے طور پر جانتا ہوں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی شعبے میں کام کرتے ہوئے کمی بیشی، غلط فہمی یا اختلاف پیدا ہو سکتا ہے۔ کوئی بھی انسان غلطی سے بالاتر نہیں۔ اگر کسی کو کسی پیشہ ورانہ معاملے میں شکایت ہے تو اس کے لیے بات چیت، وضاحت اور قانونی و اخلاقی راستے موجود ہیں۔ ہر مسئلے کو باہمی گفتگو اور افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔
لیکن کسی پیشہ ورانہ اختلاف کو ذاتی کردار کشی میں تبدیل کرنا، کسی کی عزت اور ساکھ کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنانا، میرے نزدیک انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت رویہ ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں، چاہے پاکستان ہو یا بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی، سوشل میڈیا کو بعض اوقات مسائل حل کرنے کے بجائے دوسروں کی تضحیک اور کردار کشی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی کی عزت اور برسوں کی محنت سے بنائی گئی ساکھ کو چند الفاظ سے نقصان پہنچانا کتنا آسان ہے، لیکن اس نقصان کا ازالہ کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔
میرا یہ مؤقف ہرگز نہیں کہ کسی کی جائز شکایت کو نظرانداز کیا جائے۔ ہر شخص کو انصاف مانگنے اور اپنی شکایت سامنے رکھنے کا حق ہے، لیکن کسی پر الزام لگانے اور اس کی کردار کشی کرنے میں بہت فرق ہے۔ اختلاف ضرور کریں، سوال بھی اٹھائیں، مگر شائستگی، ذمہ داری اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے۔
میں راجہ نامدار اقبال ایڈووکیٹ کے خلاف کسی بھی غیر ضروری ذاتی تضحیک اور کردار کشی کی سخت مذمت کرتا ہوں اور اس موقع پر اپنے دیرینہ دوست اور بھائی کے ساتھ کھڑا ہوں۔
ہمیں اختلافات کو دشمنیوں میں اور پیشہ ورانہ معاملات کو ذاتی کردار کشی میں تبدیل کرنے کی روایت ختم کرنا ہوگی۔
یاد رکھیے، عزت صرف اپنی نہیں، دوسروں کی بھی اتنی ہی قیمتی ہوتی ہے۔
راجہ نامدار اقبال ایڈووکیٹ کے ساتھ میرا برسوں پر محیط دوستی، مشترکہ جدوجہد اور بھائی چارے کا رشتہ کل بھی قائم تھا، آج بھی قائم ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی قائم رہے گا۔
