اسرائیل میں منگل 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد جاری کردہ ایگزٹ پولز میں کسی بھی سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ چینل 11، 12 اور 13 کے ابتدائی اندازوں کے مطابق وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو کے اتحاد کو تقریباً 50 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ ان کی حکومت کی تبدیلی کے خواہاں اپوزیشن اتحاد کو 50 سے 53 نشستیں مل سکتی ہیں۔ اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 120 میں سے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

اپوزیشن اتحاد میں یاشار، بی یاخاد، اسرائیل بیتینو اور ڈیموکریٹس جماعتیں شامل ہیں۔ اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ اور دیگر قائدین نے ایگزٹ پولز کے نتائج کو اپنے اتحاد کی کامیابی قرار دیتے ہوئے نیتن یاہو حکومت پر عوامی اعتماد کھونے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایگزٹ پولز کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کو 24 سے 25 نشستیں ملنے کی توقع ہے، جس کے باعث وہ اگلی کنیسٹ میں سب سے بڑی جماعت بن سکتی ہے۔ دوسری جانب آئزنکوٹ کی جماعت یاشار کو 21 سے 23 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ اور رام کو مجموعی طور پر 17 سے 18 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو ایک ریکارڈ تعداد ہوگی۔ ان جماعتوں کی حمایت حکومت سازی کے مذاکرات میں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر سکتی ہے، تاہم اپوزیشن کے بیشتر رہنما عرب جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے مخالف ہیں۔

اپوزیشن میں نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 12 سے 14 نشستیں، جبکہ اسرائیل بیتینو کو 7 سے 9 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ ڈیموکریٹس جماعت 9 سے 10 نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔
نیتن یاہو کے اتحاد میں اتمار بن گویر کی جماعت اوتزما یہودیت کو 6 سے 7، جبکہ مذہبی صہیونی جماعت کو تقریباً 6 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو 2022 کے انتخابات کے مقابلے میں 7.1 فیصد زیادہ ہے۔
حتمی نتائج ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آئیں گے۔ اگر کسی فریق نے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کی تو سیاسی مذاکرات، مخلوط حکومت کی تشکیل یا دوبارہ انتخابات کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
