ڈنمارک کی سابق وزیر برائے امیگریشن و انٹیگریشن اور سیاسی جماعت ڈنمارک ڈیموکریٹس کی سربراہ انگا اسٹوئبرگ (Inger Støjberg) نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈنمارک کی شہریت حاصل کرنے والے افراد کے لیے ابتدائی دس سال کو آزمائشی مدت قرار دیا جائے، جس کے دوران سنگین جرم میں ملوث ہونے والوں کی شہریت واپس لینے کی قانونی گنجائش پیدا کی جائے۔
انگا اسٹوئبرگ کے مطابق، ڈنمارک کا پاسپورٹ ایک بڑا اعزاز ہے اور شہریت حاصل کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ ملک کے قوانین کا احترام کریں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی شخص شہریت ملنے کے بعد ایسا سنگین جرم کرتا ہے جو شہریت کی درخواست کے وقت سامنے آنے پر اس کے حصول میں رکاوٹ بن سکتا تھا، تو اس کے خلاف شہریت منسوخ کرنے سمیت سخت اقدامات کیے جانے چاہییں۔
اس مطالبے کے بعد ڈنمارک میں امیگریشن اور شہریت سے متعلق بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔ اخبار Jyllands-Posten کی جانب سے ڈنمارک کی وزارتِ امیگریشن و انٹیگریشن کے اعداد و شمار کے جائزے کے مطابق، 2015 سے اب تک مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، پاکستان اور ترکی سمیت MENAPT ممالک سے تعلق رکھنے والے 14,575 افراد نے ڈنمارک کی شہریت حاصل کی۔ ان میں سے 3,143 افراد بعد ازاں مختلف جرائم میں سزا یافتہ ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق، سزا پانے والے افراد میں سے 1,592 نے ایسے جرائم کیے جن کی صورت میں موجودہ قواعد کے تحت شہریت کے حصول میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی تھی یا درخواست کے لیے انتظار کی مدت بڑھ سکتی تھی۔ یہ تعداد متعلقہ ممالک سے شہریت حاصل کرنے والے مجموعی افراد کا تقریباً 11 فیصد ہے۔ تاہم، اعداد و شمار سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام افراد ایک جیسے یا یکساں سنگین جرائم میں ملوث تھے۔
ڈنمارک ڈیموکریٹس نے شہریت سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز پر نظرثانی اور بعض کنونشنز سے علیحدگی کی تجویز بھی پیش کی ہے، تاکہ مخصوص حالات میں شہریت واپس لینے کے اختیارات بڑھائے جاسکیں۔
واضح رہے کہ ڈنمارک میں فی الحال ہر جرم کی بنیاد پر شہریت خودکار طور پر منسوخ کرنے کا عمومی قانون موجود نہیں۔ کسی بھی ایسی تبدیلی کے لیے ملکی قانون اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ انگا اسٹوئبرگ کی تجویز فی الحال ایک سیاسی مطالبہ ہے، نافذ العمل قانون نہیں۔
